سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 254
254 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایک سوال یہاں پیدا ہو سکتا ہے کہ تم سیرت تو ائم المؤمنین کی لکھ رہے ہو اور یہاں یہ ساری بحث حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے متعلق کی جارہی ہے؟ اس کے جواب میں اس قدر کہنا کافی ہو گا کہ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو میاں بیوی میں مشترک ہوتی ہیں۔کوئی مصیبت اور کوئی تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو میاں کو آئے اور بیوی اس سے متاثر نہ ہو یا بیوی کو تکلیف ہو اور میاں اس سے حصہ نہ لے میدانِ جنگ میں ایک گھرانا جو تو پوں، گولوں، بموں کا ہدف بن رہا ہے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس گھر کا مالک اس مصیبت کا شکار ہے۔اصل تو یہی ہے کہ وہ سارا خاندان، وہ سارا کنبہ، وہ سارے افراد جو ایک سلک میں منسلک ہوتے ہیں شکار ہوتے ہیں۔بالکل اسی طرح جب ایک نبی کسی ابتلاء میں ڈالا جاتا ہے۔جب اس کی روح خدا کے حضور عاجزی کر رہی ہوتی ہے۔جب وہ پانی کی طرح اس کے آستانہ پر بہہ رہا ہوتا ہے۔تو اس کے بیوی بچے بشرطیکہ وہ اس سے راستبازی کا تعلق رکھتے ہوں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔وہی نہیں بلکہ وہ لوگ جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ بھی برابر کے دکھ اور سکھ میں شریک ہوتے ہیں جیسے حضرت داؤد کہتے ہیں : اے خدا وند رب الافواج وہ جو تیرا انتظار کرتے ہیں۔میرے لئے شرمندہ نہ ہوں۔وہ جو تجھ کو ڈھونڈتے ہیں وہ میرے لئے ندامت نہ اُٹھا ئیں۔“ پس یہ ایک اصل الاصول ہے کہ جب کسی ایسی تکلیف کا اظہار کیا جائے جس میں حضرت اقدس تکلیف میں مبتلا ہوں تو جان لینا چاہئے کہ ان کی وفا شعار بیوی جو خدا نے خود بطور ایک نعمت کے دی تھی جس کی وفاشعاری خدیجہ کی طرح تھی جس کے بطن سے موعود اور مبشر اولا د دئیے جانے کے وعدے دیئے گئے تھے۔جس کے بطن سے ایسا عظیم الشان بچہ پیدا ہوا جیسے بشیر اول تھا پھر اس کی وفات ہوگئی اور بظاہر یہ معلوم ہوا کہ خدا کے وعدے مل گئے۔اندر اور باہر لوگ بیٹھے ہوئے پھبتیاں اُڑاتے ہوں اور اس کے پیارے اور نہایت ہی پیارے خاوند کے قلب پر غم واندوہ کے پہاڑ لوگوں کی تباہی کے خوف سے ٹوٹ پڑے ہوں۔اس وفا شعار بزرگ خاتون کے قلب اور رنج کی کیا حالت ہوسکتی ہے ظاہر ہے۔پس حضرت ام المؤمنین کا دکھ بالکل وہی صورت لئے ہوئے تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دیکھ لئے ہوئے تھا۔اس لئے یہ سارا واقعہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ثبات، استقلال، بے پناہ عشق الہی ، وفاداری کا ثبوت ہے۔وہاں حضرت اُم المؤمنین کی مومنانہ شان اور