سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 243
243 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میں ۱۲ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہوا۔فالحمد لله علی ذلک۔اس لڑکے کی نسبت پیشگوئی تھی۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور نور اللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس لڑکے کا اصل نام بشیر احمد تھا۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے الہامات میں اور بھی نام رکھے تھے۔جیسے بہتر اور بیر اور نوراللہ۔نیب اور چراغ دین وغیرہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ امسیح اوّل کو ایک مکتوب گرامی میں تحریر فرمایا کہ : (ب ) ” خدا تعالیٰ نے پسر متوٹے کے اپنے الہام میں کئی نام رکھے ان میں سے ایک بشیر اور ایک عنموائیل اور ایک خدا با ماست اور رحمت حق با ماست اور ایک ید اللہ بجلال و جمال ہے۔۳۳ ایک الہام اس کے متعلق یہ ہوا تھا: جَاءَكَ النُّورُ وَهُوَ اَفْضَلُ مِنْكَ، ۳۴ اس بچے کی پیدائش پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔حضرت اقدس نے اس کے عقیقہ کی تقریب پر بہت سے دوستوں کو اس خوشی میں مدعو بھی کیا تھا۔یہ خوشی کی تقریب عام دنیا داروں کی طرح نہ تھی جو بچوں کے پیدا ہونے پر خوشیاں مناتے ہیں بلکہ آپ کی غرض یہ تھی کہ آپ اس بچے کی پیدائش پر جس کی روحانی استعداد کا علم قبل از وقت دیا گیا تھا۔جس کا وجو د اسلام کی سچائی کے لئے ایک چمکتے ہوئے نشان کی طرح تھا۔خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر کریں۔پس یہ خوشی دراصل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے اظہار کے لئے تھی۔آپ نے اپنے دوستوں کو خط لکھ کر اس تقریب پر بلایا۔چنانچہ حضرت منشی رستم علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ نے ایک مکتوب تحریر فرمایا جو حسب ذیل ہے۔