سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 241 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 241

241 سیرت حضرت سید ہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دشمنوں میں ہنسی اور استہزاء کی ایک ایسی لہر اٹھی کہ جس نے ملک میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا۔کافی ہے۔یہ معصوم صاحبزادی ۱۸۹۱ء تک زندہ رہیں۔گویا تقریباً ۵ سال تک زندہ رہیں۔ان کی نسبت حضرت اقدس کا الہام تھا۔كَرَمُ الْجَنَّةِ دوحة الجنَّةِ ، ، یعنی انگور کی جنتی بیل۔جنت کا بڑا درخت۔اس لڑکی کا وجود مومنوں کے علاوہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المؤمنین کے ایمانوں کی مضبوطی ، قوت، خدا تعالیٰ کی محبت، اور خدا کی محبت میں سب کچھ برداشت کرنے کی قوت کا مظاہرہ کرانے کے لئے آیا تھا۔لوگ ہنتے تھے ، استہزاء کرتے تھے، ٹھٹھے اُڑاتے تھے، گالیاں دیتے تھے۔مگر خدا کے یہ پاک بندے ایک مضبوط چٹان کی طرح جسے کھڑے تھے۔۱۸۹۱ء میں حضرت اقدس لود ہیا نہ بسمع اہل وعیال کے تشریف لے گئے وہاں صاحبزادی صاحبہ بیمار ہوگئیں۔انہیں ہیضہ ہوا۔حضرت اقدس اس کے علاج میں اس قدر مصروف تھے کہ ایک سرسری دیکھنے والا گمان کرے کہ آپ سے زیادہ اولاد کی محبت کسی کو نہ ہو گی۔عصمت کے بیمار ہونے پر آپ اس کے علاج میں یوں دوا کرتے کہ گویا اس کے بغیر زندگی محال ہے اور ایک دنیا دار دنیا کی عرف و اصطلاح میں اولاد کا بھوکا اور شیفتہ اس سے زیادہ جانکا ہی نہیں کر سکتا۔مگر جب وہ مرگئی آپ یوں الگ ہو گئے کہ گویا کوئی چیز تھی ہی نہیں اور جب سے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ کوئی لڑکی تھی۔یہ مصالحت اور مسالمت خدا کی قضاء وقدر سے بجز منجانب اللہ لوگوں کے اور سے ممکن نہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صاحبزادی عصمت کی وفات سے جہاں تک بشیریت کا تعلق ہے ، گو نہ صدمہ ہوا جو اسی حد تک تھا۔مگر خدا تعالیٰ کی مقادیر سے کامل صلح اور مسالمت تھی اور آپ خدا کے اس فعل پر خوش و خرم تھے۔۳۲ اس کی وفات پر بھی بہت کچھ شور وشر ہوا کہ لو وہ لڑکی بھی زندہ نہ رہی۔اس طرح یہ معصوم جنتی انگور کی بیل اس دنیا میں پانچ سال تک رہ کر جنت میں جہاں سے آئی تھی واپس چلی گئی۔وہ لوگوں کے ایمان کو صیقل کرنے کے لئے ، ان کے اندر قوت ایمان پیدا کرنے کیلئے آئی تھی ، اس کا کام جلد پورا ہو گیا اور وہ جلدا اپنے رب کے حضور چلی گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ