سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 240
240 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کہ جب حضور نے ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں اس کا اعلان فرمایا تو اس کی وجہ سے ملک میں ایک شور برپا ہو گیا اور لوگ نہایت شوق کے ساتھ اس پسر موعود کی راہ دیکھنے لگے۔اور سب نے اپنے اپنے خیال کے مطابق اس پسر موعود کے متعلق امید میں جما لیں۔بعض نے اس پسر موعود کو مہدی معہود سمجھا۔جس کا اسلام میں وعدہ دیا گیا تھا اور جس نے دنیا میں مبعوث ہو کر اسلام کے دشمنوں کو نا پید اور مسلمانوں کو ہر میدان میں غالب کرنا تھا۔بعض نے اور اسی قسم کی امیدیں قائم کیں اور بعض تماشائی کے طور پر پیشگوئی کے جلال اور شان و شوکت کو دیکھ کر ہی حیرت میں پڑ گئے تھے اور بغیر کوئی امید قائم کئے اس انتظار میں تھے کہ دیکھئے پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔غیر مذاہب والوں کو بھی اس خبر نے چونکا دیا تھا۔غرض وحی الہی کی اشاعت رجوع عام کا باعث ہوئی۔ان دنوں حضور کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔مگر اللہ نے بھی ایمان کے راستہ میں ابتلاء رکھے ہوتے ہیں۔سو قدرت خدا کہ چند ماہ کے بعد مئی ۱۸۸۶ء میں بچہ پیدا ہوا تو وہ لڑکی تھی۔اس پر خوش اعتقادوں میں مایوسی اور بداعتقادوں اور دشمنوں میں ہنسی اور استہزاء کی ایک لہر اُٹھی۔کہ جس نے ملک میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا۔اس وقت تک بیعت کا سلسلہ تو تھا ہی نہیں کہ مریدین الگ نظر آتے۔پس عام لوگوں میں چہ میگوئی ہو رہی تھی کہ یہ کیا ہوا۔کوئی کچھ کہتا تھا کوئی کچھ۔حضور علیہ السلام نے بذریعہ اشتہار اور خطوط اعلان فرمایا کہ وحی الہی میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس وقت جو بچہ کی امید واری ہے تو یہی وہ پسر موعود ہوگا اور اس طرح لوگوں کی تسلی کی کوشش کی۔چنانچہ اس پر اکثر لوگ سنبھل گئے۔۳۱ اس طرح مئی ۱۸۸۶ء میں ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُم المؤمنین کے گھر میں ایک بچی کی پیدائش پر خوشیاں ہورہی تھیں اور دوسری طرف اس کی ولا دت نے ملک بھر میں ایک طوفانِ بے تمیزی پیدا کر دیا اور اپنوں اور غیروں نے زبان طعن دراز کی اور اس قدر بد گوئی سے کام لیا کہ دلوں کو چھلنی کر دیا۔میں اس چھوٹی سی کتاب میں اُن عبارتوں اور تحریروں کے کٹنگ نہیں دے سکتا۔مگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا یہ تحریر فرما نا کہ: