سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 239
239 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور وہ پیشگوئی پیتھی۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے۔وہ نو ر اللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے“۔۳۰ اس پیشگوئی کو پہلی پیشگوئی کا حصہ ہی سمجھا گیا۔حالانکہ یہ پیشگوئی اس پیشگوئی کا حصہ تھی جوا ۱۸۸ء میں ان الفاظ میں کی گئی تھی۔إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلام حسین۔ہم تجھے ایک حسین لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عظیم الشان لڑکے کی پیشگوئی بذریعہ اشتہار شائع فرما دی اور اسی اشتہار میں ایک اور لڑکے کی بھی پیشگوئی تھی جس کو مہمان کے نام سے ظاہر کیا گیا۔مگر سب کی توجہ اس عظیم الشان لڑکے کی طرف تو گئی مگر مہمان کی طرف نہ گئی۔صاحبزادی عصمت کی پیدائش جن ایام میں یہ پیشگوئی شائع ہوئی۔اُن ایام میں حضرت اُم المؤمنین کے مشکوئے معلے میں امید واری تھی۔چنانچہ مئی ۱۸۸۶ ء میں اس امیدواری سے ایک صاحبزادی پیدا ہوئی۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بیوی سے پہلی اولاد تھی۔چونکہ ۱۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو آپ نے اس عظیم الشان لڑکے کی پیشگوئی شائع فرمائی تھی۔اس لئے جب مئی ۱۸۸۶ء یعنی اشتہار کے تیسرے مہینے میں لڑکی پیدا ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک مخالفت کا طوفانِ بے تمیزی کھڑا ہو گیا۔ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ نہیں کیا تھا مگر عقیدت مندوں کی ایک جماعت موجود تھی۔اس لڑکی کی پیدائش پر جو ہوا، اسے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے سیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ ۱۰۵ روایت نمبر ۱۱۶ میں یوں لکھا ہے: جب شروع ۱۸۸۶ ء میں حضرت مسیح موعود نے خدائی حکم کے ماتحت ہوشیار پور جا کر وہاں چالیس دن خلوت کی اور ذکر خدا میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو ایک عظیم الشان بیٹے کی بشارت دی۔جس نے اپنے مسیحی نفس سے مصلح عالم بن کر دنیا کے چاروں کونوں میں شہرت پانی تھی۔یہ الہام اس قدر جلالی اور شان وشوکت کے ساتھ ہوا