سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 238 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 238

238 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہیں۔کیا حقیقت میں وہ جواہرات کا ڈھیر ہوتے ہیں؟ یا اُن کے دماغ کا نقص ہوتا ہے۔اور ایسے ہی ہم نے دیکھا ہے کہ کبھی بسنے والے اور آباد گھر جب اُجڑ جاتے ہیں تو جنگلوں سے آ کر گیدڑ اور بھیڑئیے اُن میں اپنا مسکن بنا لیتے ہیں اور کئی ایسے اُجڑے ہوئے مکانوں میں اُلو اور چمگادڑ اپنی سلطنت قائم کر لیتے ہیں۔کیا کوئی صحیح الدماغ انسان گیدڑوں اور بھیڑیوں کی وجہ سے ان مکانوں کو آباد کہہ سکتا ہے؟ کیا الو ؤں اور چمگادڑوں کی آمد ورفت اور آوازوں سے کوئی عقلمند یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ وہاں بڑی گہما گہمی ہے۔ہرگز نہیں۔یہ چیزیں تو ویرانی اور بربادی کی ایک کھلی اور بین دلیل ہیں۔پس وہ لوگ جو آج یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں وہ لڑکا پیدا نہیں ہوا اور وہ جو کہتے ہیں کہ وہ اس مادر مہربان کے بطن سے پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔وہ سب در پردہ اس خدائی سلسلہ کے دشمن ہیں۔اگر چہ ان کی زبانیں اور منہ اس امر کو تسلیم نہ کریں۔لیکن ان کے اعمال ان کی قلمیں ، ان کے اخبار اور ان کی ساری کوششیں اس امر پر مبنی ہیں کہ وہ یہ ثابت کریں کہ یہ سارا سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی نہیں۔انہی کی ان کوششوں سے تاریکی کے پردے اسلام کے اس قصر کو خالی سمجھ کر اپنا گھونسلا بنانے کی فکر میں ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کا سورج آج پوری شان کے ساتھ چمک رہا ہے اور کوئی تیرہ پرست اس جگہ اپنا سر چھپانے کے لئے جگہ نہیں پاسکتا۔یادر ہے! کہ خدا تعالیٰ کے مسیح کی سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ لڑکا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ظاہر کیا گیا تھا جسے صلحاء امت اپنی پیشگوئیوں میں ہمیشہ ظاہر کرتے رہے اور جس کے لئے خدا تعالیٰ نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان الفاظ میں فرمایا: سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت سے ہوگا۔۲۹ اس پیشگوئی میں لفظ تیرے ہی تخم اور تیری ہی ذریت نے ایسی حد بندی کر دی ہے کہ کسی مدعی کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔اس پیشگوئی میں ایک اور پیشگوئی بھی تھی جو پیشگوئی میں بالکل اس طرح مل کر آئی تھی کہ عام طور پر اس کی طرف توجہ نہ گئی اور یہی خیال کیا گیا کہ یہ پہلی پیشگوئی کی ہی جزو ہے