سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 229 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 229

229 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وعدوں کے فرزند اس بی بی سے عطا کئے ہیں۔جو شعائر اللہ میں سے ہیں۔اس واسطے اس کی خاطر داری ضروری ہے اور ایسے امور میں اس کا کہنا ماننا لازمی ہے۔“ یہی روایت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے اپنی سیرت اور حضرت عرفانی کبیر نے اپنی سیرت حصہ سوم کے صفحہ ۳۶۸ پر لکھی ہے۔مگر اس میں کچھ لفظی تغیر ہے۔جو یوں ہے : فرمایا: ” خدا تعالیٰ نے مجھے لڑکوں کی بشارت دی اور وہ اس بی بی کے بطن سے پیدا ہوئے۔اس لئے میں اسے شعائر اللہ سے سمجھ کر اس کی خاطر داری رکھتا ہوں اور جو وہ کہے مان لیتا ہوں“۔نفس روایت یا موضوع کی روح میں کوئی فرق نہیں۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ اس وفد کی پرواہ کی نہ ان دلائل کو وزنی قرار دیا۔بلکہ ان سب چیزوں کے مقابل میں عملی طور پر حضرت اُم المؤمنین کی بات اور منشاء کو ترجیح دی۔جانے والے جانتے ہیں کہ حضرت اقدس کو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے بڑی محبت تھی۔مگر حضرت اُم المؤمنین کے معاملہ میں ان کی بات بھی گر ہی گئی۔مولوی سید محمد احسن صاحب کا واقعہ ایک دفعہ حضرت اُم المؤمنین نے اس سیڑھی کے بدلنے کی ضرورت محسوس کی جو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے مکان کی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔اسے اس بالا خانہ کے ساتھ رکھنا تھا جس میں مولوی محمد علی صاحب رہتے تھے اور نیچے مولوی سید محمد احسن صاحب رہتے تھے۔مولوی محمد احسن صاحب نے اس سیڑھی کے وہاں رکھنے کی مخالفت کی کہ میرے حجرہ کو اندھیرا ہو جائے گا۔حضرت اُم المؤمنین نے حکم دیا کہ سیڑھی وہیں ہی رکھی جائے۔حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ انتظام کر رہے تھے اور ان کو اس کے لئے بڑی جد و جہد کرنی پڑی۔آخر ان کے مزاج میں گرمی تھی اور جہیر الصوت تھے۔انہوں نے زور زور