سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 227
227 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ لائے۔منشی عبدالحق صاحب لاہوری پنشنر نے جو پہلے آپ سے بڑی محبت اور حسن ظنی رکھتے تھے۔مگر بعد میں الگ ہو گئے۔آپ سے آپ کی بیماری کی تکلیف پوچھی۔اور پھر کہا : آپ کا کام بہت نازک اور آپ کے سر پر بھاری فرائض کا بوجھ ہے۔آپ کو چاہئے کہ جسم کی صحت کی رعایت کا خیال رکھا کریں اور ایک خاص مقوی غذا لازماً آپ کے لئے ہر روز تیار ہونی چاہئے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا : ”ہاں بات تو درست ہے اور ہم نے کبھی کبھی کہا بھی ہے مگر عورتیں کچھ اپنے ہی دھندوں میں ایسی مصروف رہتی ہیں کہ اور باتوں کی چنداں پرواہ نہیں کرتیں۔“ اس پر منشی عبد الحق صاحب نے کہا کہ : ا جی حضرت آپ ڈانٹ ڈپٹ کر نہیں کہتے اور رعب پیدا نہیں کرتے۔میرا یہ حال ہے کہ میں کھانے کے لئے خاص اہتمام کیا کرتا ہوں اور ممکن ہے کہ میر احکم کبھی ٹل جائے اور میرے کھانے کے اہتمامِ خاص میں سرِ مو فرق آ جائے ورنہ ہم دوسری طرح خبر لیں۔“ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے خیال کیا کہ یہ بات میرے محبوب آقا کے حق میں مفید ہے۔اس لئے بغیر سوچے سمجھے اس کی تائید کر دی۔حضرت اقدس نے حضرت مولانا کی طرف دیکھا اور تقسم سے فرمایا: ”ہمارے دوستوں کو تو ایسے اخلاق سے پر ہیز کرنا چاہئے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بڑے ذکی الحسن آدمی تھے وہ فرماتے ہیں : ہوا۔۲۳ بس خدا ہی جانتا ہے کہ میں اس مجمع میں کس قدر شرمندہ ہوا اور مجھے سخت افسوس اس ایک واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بعض ایسے لوگ بھی آتے تھے جو بظاہر محبت سے ایک بات کہتے تھے مگر ان کی بات پر عمل کرنا اہلی زندگی کو خراب کرنے کے برابر ہوتا اور پھر اللہ تعالیٰ کے ان اوامر کے بھی خلاف جو بیوی کے ساتھ بھلائی ، خیر اور حسن سلوک کے متعلق نازل ہوئے ہیں۔منشی عبدالحق صاحب کا یہ قول : ”اگر میرے کھانے کے اہتمام خاص میں کوئی سرمو فرق آ جائے تو ہم دوسری طرح