سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 216
216 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سی کم عمر لڑ کی سفید لباس میں نظر آئی تو ہم کو تعجب ہوا۔اور ہم نے کہا کہ ”اے کس طرح دی ووہٹی اے“ اس کے بعد مائی کا کو صاحبہ بیان کرتیں ہیں کہ ہم نے پھر حضرت ام المؤمنین کی جو شان دیکھی اسے میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی۔سب سے بڑی چیز جو انسان کو ہر ایک جاندار سے ممیز کرتی ہے نہ صرف ہر ایک جاندار سے ممیز کرتی ہے بلکہ انسانوں میں بھی ممتاز بناتی ہے وہ انسانی اخلاق ہیں۔اس مختصر سی کتاب میں میں فلسفہ اخلاق پر بحث نہیں کر سکتا۔مگر اخلاق روحانیت کے لئے پہلا زینہ ہیں۔ہمارے گھروں کی اندرونی زندگی کے خراب ہونے کے بڑے اسباب میں ایک اخلاقی تفاوت بھی ہے۔میاں بیوی کی زندگی کی گاڑی اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک ان دونوں کا نقطہ نگاہ ایک نہ ہو۔مثلا فرض کر لو ایک گھر کا مالک مہمان نواز واقع ہوا ہے مگر بیوی کسی مہمان کو پانی پلانا بھی پسند نہ کرتی ہو تو اس کا نتیجہ ظاہر ہے اس گھر میں ہر روز جنگ ہوتی رہے گی۔بیوی کہے گی کہ میں تمہاری خدمت تو کر سکتی ہوں مگر یہ ہر آئے گئے کی خدمت مجھ سے نہیں ہو سکتی۔میں ان لوگوں کی نوکر نہیں لگی ہوئی میں اپنا گھر لوگوں کیلئے لٹا نہیں سکتی۔الغرض اس قسم کی سینکڑوں ایسی باتیں پیدا ہوتی رہیں گی جن سے گھر خانہ جنگی کا مرکز بنا رہے گا۔اسی طرح اگر میاں دیندار ہو اور بیوی دیندار نہ ہو، میاں فیاض ہو بیوی بخیل ہو، میاں تعلیم یافتہ ہو، بیوی جاہل ہو، میاں ہمدرد خلائق ہو بیوی لوگوں کو دیکھ کر گھبراتی ہو۔تو ان حالات میں مزاجوں میں چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے اور ایسے میاں بیوی خود اپنے لئے وبال جان بن جاتے ہیں اور ایسے گھر ہر وقت کی لڑائی کی آماجگاہ بنے رہتے ہیں۔ان سے برکت ، آرام اور چین چلا جاتا ہے۔اس لئے صرف مرد کے اخلاق پر گھر کی عافیت مبنی نہیں بلکہ گھر کو جنت بنانے میں عورت کا بہت بڑا دخل ہے۔عورت گھر کی ملکہ ہے، جہاں اس کی کلی حکومت ہوتی ہے وہ اگر چاہے تو اسے جنت بنا دے اور چاہے تو اسے جہنم بنا دے۔اس لئے عورت کے اخلاق پر گھر کی بہتری اور بہبودی کا بڑا انحصار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کی اصلاح، تربیت، درستی کیلئے مبعوث ہوئے ، ان کو وسع مکانک- یاتیک من كل فج عميق وياتون من كل فج عمیق کی بشارتیں ہورہی تھیں۔