سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 214 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 214

214 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ والا، کنبہ نہ ناطہ، اکیلی حیرانی پریشانی میں آن کر اُتری، کمرے میں ایک کھتری چارپائی پڑی تھی۔جس کی پائینتی ایک کپڑا پڑا تھا اس پر تھکی ہاری جو پڑی ہوں تو صبح ہوگئی۔” یہ اس زمانہ کی ملکہ دو جہان کا بستر عروسی تھا اور سُسرال کے گھر میں پہلی رات تھی مگر خدا کی رحمت کے فرشتے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ اسے کھتری چار پائی پر سونے والی پہلے دن کی دلہن ! دیکھ تو سہی دو جہان کی نعمتیں ہوں گی اور تو ہوگی بلکہ ایک دن تاج شاہی تیرے خادموں سے لگے ہوں گے انشاء اللہ۔اگلی صبح حضرت مسیح موعود نے ایک خادمہ کو بلوا دیا اور گھر میں آرام کا سب بند و بست کر دیا۔“ یہ ہے شادی کی تفصیل۔اس طرح وہ دُلہن جسے خدا نے نو عرو سے کہا تھا اور جس کو ”خدیجتی‘“ اپنی خدیجہ فرمایا تھا۔اپنے عظیم الشان شوہر کے گھر میں آگئی۔میرے عزیز دوست ثاقب صاحب زیروی جو ایک مخلص اور نو جوان شاعر ہیں۔انہوں نے اس مبارک تقریب کے ذکر پر ایک نظم لکھ کر اس کتاب میں شائع کرنے کے لئے میرے پاس بھیجی ہے۔میں ان کے اخلاص اور محبت کو مد نظر رکھ کر خوشی سے ان کی نظم کو جگہ دے رہا ہوں۔( محمود عرفانی ) ائم المؤمنین کی شان معین وقت پر خالق نے مضراب حسین چھیڑا محبت اور اخوت کے ہوئے نغمات پھر پیدا چھٹے ظلمت کے بادل مہر حق بالائے بام آیا زمیں والوں کو پھر سے نور و رحمت کا پیام آیا ندا آئی جہاں میں پھر ہمارا پہلواں جائے جہاں والوں کو جو اسلام کے آداب سکھلائے مٹائے جا کے ہر گلکاری شرک و تو ہم کو بدل دے زہر خنداں سے جو تنگیشی تبسم کو جہاں کو خواب غفلت سے جگانا کام ہو جس کا ہر اک شے کو مٹا کر پھر بنانا کام ہو جس کا چناؤ میں محمد کا جواں سب سے پسند آیا یقیناً ایسے آڑے وقت میں تھا چاہئے ایسا جمالی سناں کے ہر ہتھیار سے آراستہ کر کے نگاہوں میں جگر میں ، دل میں نو را از دی بھر کے فرشتوں کو دیا یہ حکم بس اک بار پھر جاؤ رفیق ایسا ہمارے پہلواں کے واسطے ڈھونڈ و کا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام