سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 203 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 203

203 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ وقت سننے والوں کو تعجب ہوا۔اس کے بعد پھر الہام ہوا۔اُشْكُرُ نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِيجَتِي A اس الہام میں اس دلہن کا نام خدیجہ رکھا گیا۔نزول مسیح کے صفحہ ۱۴۷ میں تحریر فرمایا : یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا۔اور خدیجہ اسلئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے۔جیسا کہ اس جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھا اور نیز یہ اس طرف اشارہ تھا کہ وہ بیوی سادات کی قوم سے ہوگی۔پھر الہام ہوا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَ النَّسْبَ - یعنی وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمہارا دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید تھے کیا اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا۔جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکب ہے۔پھر بوقت عصر الہام ہوا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔یہ سب سامان میں خود ہی کرونگا۔اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔ہر چہ باید نوعروسے را ہماں ساماں و آنچه مطلوب شما باشد عطائے آں کنم ا اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے دوسری شادی کے متعلق خود اپنے ارادے کا اظہار فرمایا۔اس میں سب سے پہلا لفظ جو قابل غور ہے وہ میں نے ارادہ کیا ہے کا لفظ ہے۔ارادہ عربی لفظ ہے۔قرآن کریم میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔مثلاً قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ، فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ !! یعنی جب وہ کسی چیز کا ارادہ کر لیتا ہے۔تو اس کا حکم یہی ہوتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔پاک ہے وہ خدا جس کے قبضہ میں ہر چیز کی حکومت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔پس خدا تعالیٰ جو خالق الاسباب ہے اور ساری کائنات کا مالک و حاکم ہے اس کے ارادے میں کون روک ہوسکتا ہے۔پس اس کا ارادہ ایک تقدیر مبرم اور اٹل ہے۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر اس کا ارداہ ٹل نہیں سکتا۔