سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 196 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 196

196 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت ام المؤمنین کی پرورش رزق حلال سے ہوئی اسلام نے جہاں کھانے پینے کے مسائل بیان فرمائے ہیں وہاں یہ حکم دیا ہے۔كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَللاً طَيِّبًا کہ تمہارا کھانا اور پینا حلال اور طیب ہو۔غذاؤں کا جسم پر جو اثر ہے اس سے ہر شخص واقف ہے۔ہم جس قسم کی غذائیں کھاتے ہیں وہ ہمارے جسم پر اس قسم کا اثر ڈالتی ہیں اور جس قسم کا اثر ہمارے جسم پر پڑتا ہے۔اسی قسم کا اثر ہمارے اخلاق اور روح پر پڑتا ہے۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو ہماری غذا عام نہیں رہتی بلکہ اسے لطیف بنا دیا جاتا ہے وہ ٹھوس نہیں ہوتی اسے سیال کر دیا جاتا ہے۔ایسی حالت میں بھنا ہوا گوشت، بٹیر، مرغ، پلاؤ، زردہ تقیل اور دیر ہضم غذا ئیں ہمارے لئے مہلک ثابت ہو جاتی ہیں۔لیکن یخنی، دودھ ، سوڈا، پھلوں کے رس ہمارے لئے زندگی بخش ثابت ہوتے ہیں۔اسی طرح مر دار یا سری گلی کچھی غذا ئیں ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوتی ہیں۔ایسے ہی وہ غذائیں جو نا جائز مال سے تیار کی جائیں وہ مُردار اور سری گلی اور ناقص غذاؤں کی ذیل میں ہی آتی ہیں۔ایسی غذاؤں سے جو جسم بنتا ہے اس کو روحانیت سے دُور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بد بودار چیز کھا کر مسجد میں نہ آؤ۔جس چیز سے مومنوں کو تکلیف ہوتی ہے اس سے ملائکہ کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔اس قول نبوی کے ذریعے کتنا لطیف سبق ہم کو دیا گیا۔ہمارا مذاق کس قدر پاکیزہ ہونا چاہئے کہ پبلک مقامات پر کسی بد بو والی چیز کا اثر لے کر نہ جائیں بلکہ جمعہ کے دن خوشبو استعمال کرنے کا حکم دیا۔جو مذہب اس قدر اعلیٰ تعلیم دے وہ کب اس امر کو پسند کر سکتا ہے کہ ایسی غذائیں جو کسب حرام سے میسر ہوں ان کو کھاؤ۔اس کا یہی فلسفہ ہے کہ انسان کے اندر ایسا خون صالح بنے کہ جس کے اثرات رُوح پر نہایت پاکیزہ ہوں۔اس فلسفہ کے ماتحت جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اُم المؤمنین کی پرورش ایسے رنگ میں ہوئی کہ کبھی زندگی بھر ان کے منہ میں ایک نوالہ نہیں گیا جو ایسے مال سے بنایا گیا ہو جو نا جائز ہو تو کتنی عظمت معلوم ہوتی ہے آپ کے وجود کی کہ سارا جسم ان پاکیزہ غذاؤں سے تیار ہوا جن میں کبھی کسی قسم کی حرام کی ملونی نہ تھی۔اس سے جو خون پیدا ہوتا تھا وہ بھی صالح تھا۔اس لئے اس وجود کا تعلق غذاؤں کے فلسفے کے ماتحت قدرتی طور پر روحانی عالم کے ساتھ تھا اور بے شک ایسی پاکیزہ ہستی جو حسب و نسب کے لحاظ سے اعلی تھی اور اپنی ذاتی پاکیزگی کی