سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 191 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 191

191 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی مقدر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ حضرت احمد کی شکل میں ہو اور پھر اس کی اولاد نرینہ بھی ہو اور وہ اولا د ایسی ہو جو موعود ہو۔اُسے برکت پر برکت دی جائے اور اسے قوت پر قوت دی جائے اور ان کو اس زمانے کے یزیدوں پر فتح اور نصرت اور غلبہ دیا جائے۔اس لئے ایسی عظیم الشان اولاد کی ماں بننے کے لئے جس خاتون کو چنا گیا اس ماں کی عظمت اور اس خاتون کی شان تو خود ہی واضح اور عیاں ہے۔پھر یہی نہیں مختلف اوقات میں مختلف زمانوں اور مکانوں میں اس موعود کی پیشگوئیاں اہل اللہ نے دنیا کو سنائیں تو انہوں نے اس موعود کے ساتھ موعود بیٹے کی بشارت ضرور دی جس کے معنی یہ تھے کہ وہ ایک عظیم الشان خاتون کی بھی پیشگوئی کر رہے ہیں۔یعنی وہ خاتون ایسی عظیم الشان ہوگی جو ان نوروں کی ماں ہوگی جو دنیا کی راہنمائی اور ہدایت کیلئے پیدا کئے جائیں گے۔چنانچہ نعمت اللہ ولی کی پیشگوئی بھی اسی قسم کی پیشگوئی تھی اور خواجہ میر درد کے گھرانے کے لئے بھی یہی پیشگوئی مقدر کی گئی کہ جو روشنی اور نوران کو دیا گیا ہے وہ مسیح موعود میں جا کر گم ہو جائے گی۔الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تمام راستباز اس خاتون کی عظمت اور شان کے قائل تھے جو سیح موعود علیہ السلام کی حرم بنے والی تھی۔کیا صرف مسیح موعود کی بیوی بنا کوئی فضلیت ہے؟ بعض نادان جن کو بصیرت سے کوئی حصہ نہیں ملا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف حضرت مسیح موعود کی بیوی بنا کوئی فضلیت نہیں۔میں ان اندھوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم پر لگے ہوئے کپڑے بابرکت ہو سکتے ہیں، اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رہنے کی وجہ سے الدار با برکت اور طاعون کی پناہ گاہ ہو سکتا ہے اور اگر آپ کے وجود سے ایک غیر آباد کورد یہ بستی تخت گاہ رسول بن سکتی ہے اور اگر حضرت ہاجرہ کے صفا مروہ پر دوڑنے سے وہ پہاڑ شعائر اللہ میں داخل ہو سکتے ہیں تو مسیح موعود علیہ السلام سے اس قدر قرب رکھنا کیوں باعث فضیلت نہیں ہوسکتا؟ مگر یہاں تو صرف تعلق نہیں بلکہ یہ تعلق اُس وقت آسمان پر جوڑا گیا جب کہ حضرت مسیح موعود اور حضرت ام المؤمنین کو اس دنیا میں آنے میں ابھی صدیوں انتظار کرنا باقی تھا۔پھر اس تعلق کی صلحاء امت تصدیق کرتے