سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 7
7 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ تمہید گذشته سال ۱۹۴۲ء میں میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے ایک کتاب مرکز احمدیت قادیان“ نامی تصنیف کی۔جب میں یہ کتاب لکھ رہا تھا اُنہی ایام میں میرے قلب میں ایک زبر دست لہر پیدا ہوتی تھی کہ میں دنیا کی اس ممتاز ترین خاتون کی سیرت و سوانح لکھوں جسے تیرہ صدیاں گذرنے کے بعد مومنوں کی ماں بنے کا شرف حاصل ہوا اور جس کے وجود سے وہ نور پیدا ہوئے جن کے ذریعے سے آئندہ دنیا کی آبیاری کی جائے گی۔مگر قدرت کی نیرنگیاں ہیں کہ میں جلسہ سالانہ کے بعد کھانسی کی تکلیف میں مبتلا ہو گیا۔میرا ارادہ تو یہ تھا کہ میں جنوری ۱۹۴۳ء کے آغاز میں ہی اس کام کو شروع کر سکوں گا مگر مشیت الہی کچھ اور چاہتی تھی۔اس لئے میری کھانسی کی یہ حالت ہوئی کہ۔بع مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواء کی مرض نے بڑھتے بڑھتے مجھے اس حد تک لا چار کر دیا کہ میں بالکل چلنے پھرنے اور اُٹھنے بیٹھنے سے مجبور ہو گیا حتی کہ ڈاکٹروں کی رائے میں میں تپ دق کا بیمار قرار دیا گیا مجھے ان گھڑیوں میں جب کہ میں مرض کے شدید پنجے میں گرفتار تھا۔جن امور کا رنج اور خیال تھا اُن میں سے ایک یہ امر بھی تھا کہ میں جو کام کرنا چاہتا تھا اس سے محروم رہتا ہوا نظر آتا ہوں۔ان امور کی وجہ سے میرے اندر ایک کرب کی کیفیت پیدا ہوتی تھی اور میں بیقرار ہو کر خدا سے دعا مانگتا تھا کہ وہ مجھے اپنے فضل سے صحت یاب کر دے۔میرے بزرگ اور میرے احباب اور بھائی بھی بکثرت دعاؤں میں مشغول تھے۔اسی حالت میں ما در مهربان حضرت اُم المؤمنين اطال الله عمر هـ ھا نے بھی اپنی خادمہ کے ذریعے دو دفعہ میری حالت دریافت فرمائی اور اپنی شفقت کے اظہار کے لئے کہلوایا کہ آپ میرے لئے دعا فرمارہی ہیں۔ان الفاظ میں ایک بڑی برکت اور تسلی تھی جس نے میرے قلب کو ڈھارس دی اور میں روز بروز اپنی بیماری میں کمی اور اپنی صحت میں ترقی محسوس کرنے لگا۔حتی کہ آج ۱۹ مارچ ۱۹۴۳ء بروز جمعۃ المبارک