سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 134
134 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تحریکیں ہو رہی تھیں اور خدا تعالیٰ اپنے عرش سے فرما رہا تھا۔- الحمد لله الذي جعل لكم الصهر و النسب !! ۲۔میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہ ہو گی۔اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔۳۔ہر چه باید نوعروسی را همه سامان کنم و آنچه مطلوب شما باشد عطائے آں کنم ۱۲ اس پر حضرت اقدس نے اپنی طرف سے تحریک کر دی اور یہ تحریک بہت کچھ تر ڈد کے بعد منظور ہوگئی۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی دعوئی نہ تھا البتہ آپ تائید اسلام کے کام میں پورے زور سے منہمک تھے۔براہین احمد دیکھی جارہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوئی ۱۸۸۹ء میں آپ نے لدھیانہ میں بیعت اولی لی۔اُس وقت اگر چہ حضرت میر صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قلبی عقیدت تھی اور وہ آپ کو بڑا راستباز سمجھتے تھے مگر انہوں نے آپ کے دعوئی کو قبول نہیں کیا۔حضرت میر صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو قبول نہ کرنا اُن کی نیکی اور صفائی قلب کی ایک دلیل تھا کیونکہ حضرت میر صاحب اپنے پرانے عقاید کی وجہ سے یہ سمجھے ہوئے تھے کہ مسیح و غالبا آسمان سے اُترے گا۔قدیم اعتقادات جو لوگوں کے قلوب میں ایک فولادی میخ کی طرح جمے ہوئے تھے اور لوگوں کا ان قدیم اعتقادات کے خلاف فورانئی تبدیلی پیدا کر لینا بہت مشکل تھا۔بالکل اسی خیال کے مطابق حضرت میر صاحب اپنے خیالات پر جمے رہے۔یہی نہیں بلکہ انہوں نے نہایت سختی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خیالات کی مخالفت کی اور اس پر مضمون بھی لکھے اور نظمیں بھی لکھیں۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جس چیز کو سچائی سمجھا ، اس کے لئے کسی چیز کی پرواہ نہ کی حتی کہ اس امر کی بھی پرواہ نہ کی کہ حضرت صاحب سے میرے کیا تعلقات ہیں۔اگر کوئی دنیا دار آدمی ہوتا تو وہ اپنے گرد و پیش کے حالات کو دیکھ کر اگر حضرت صاحب کے دعویٰ کو قبول نہ کرتا تو اس کی مخالفت پر کمر بستہ بھی نہ ہوتا۔