سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 126
126 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ قدرت الہی نے اس امر کا فیصلہ کر رکھا تھا کہ ایسی خاتون خود محمد الرسول اللہ ﷺ کی اپنی نسل ہی سے ہو۔وہ فاطمہ کی بیٹی ہو اور ان تمام ائمہ اور اولیاء کے ساتھ اس کو خون کا رشتہ ہوتا کہ نیک اور پاک خون کا ایک مسلسل تعلق چلتا ہوا آنحضرت ﷺ تک پہنچ جائے اور اس سے اعلیٰ اور بہتر اور کوئی رشتہ خدا کے مسیح کے لئے نہیں ہو سکتا تھا۔جس طرح حضرت علی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما کے تعلق کی وجہ سے اہل بیت میں داخل ہو گئے۔اسی طرح سَلْمَانَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ فارسی النسل مسیح موعود اس خاتون کے تعلق کے ساتھ جسمانی طور پر بھی اہلبیت میں داخل ہو گئے۔اتنی بڑی شان کی خاتون ۱۸۶۵ء میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کے گھر میں پیدا ہوئی۔آپ کی پیدائش کی پہلی برکت حضرت میر ناصر نواب صاحب کے والد صاحب خواجہ سید ناصر امیر صاحب ناصری گنج کی جائیداد میں سے اپنا حصہ لینے کے لئے گئے۔مگر ان کو وہاں نہ صرف یہ کہ کامیابی نہ ہوئی بلکہ وہ وہیں فوت ہو گئے مگر اس پیدائش کے بعد پہلی برکت یہ نازل ہوئی کہ حضرت میر صاحب کو پانچ ہزار کی جائیداد بغیر کسی قسم کی سعی کے مل گئی جس کی آمدنی پندرہ روپے ماہوار تھی۔۵۔اس کے بعد حضرت میر صاحب کی بیکاری کا زمانہ ختم ہوا۔اور ملازمت کا دور شروع ہو گیا۔اس طرح سے آپ کا وجود خاندان کے لئے خیر و برکت کا باعث ہوا۔آپ کا نام حضرت اُم المؤمنین کا نام حضرت میر صاحب نے نصرت جہان بیگم رکھا۔یہ نام اپنے اندر خود بھی بہت سی برکات رکھتا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب تریاق القلوب صفحه ۶۴ ، ۶۵ میں تحریر فرمایا ہے : اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا۔اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی۔اس کا نام نصرت جہان بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے