سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 125
125 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پیدائش کی صدیوں سے انتظار تھی اور جس کی پیدائش کا فیصلہ روز ازل سے ہی الہی پروگرام کے ماتحت مقدر ہو چکا تھا۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تخلیق میں اس کی اصلاح کے لئے انبیاء اور مرسلین مبعوث فرمائے۔اس نے سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمد یہ قائم کیا۔سلسلہ موسویہ کی اصلاح کیلئے ایک مسیح کو مبعوث فرمایا جو احیاء دین موسوی کے لئے مبعوث ہوا پھر سلسلہ محمد یہ قائم کیا اور اس سلسلہ کو سلسلہ موسویہ کے بالکل متوازی قائم کیا اور اس کے لئے یہ مقدر کیا کہ جب یہ سلسلہ بنی اسرائیل کی طرح بگڑ جائے گا تب ایک مسیح بروز محمد بنا کر بھیجا جائے گا جو اتباع محمد ﷺے میں اس قدر محو ہو گا کہ اس میں اور اس کے متبوع میں کوئی فرق نہ رہے گا۔حتی کہ وہ خود پکار اٹھے گا کہ : مَنْ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفَى فَمَا عَرَفَنِي وَمَا رَای اس پر محمدیت کی چادر ڈال دی جائے گی۔اور وہ اس قدر اس میں محو ہو گا کہ وہ زندگی تو زندگی مرنے کے بعد بھی رسول کریم علیہ کی قبر میں ہی مدفون ہوگا۔اس کے لئے مقدر تھا کہ وہ ایک شادی کرے گا اور اس شادی سے ایسی اولاد پیدا ہوگی جن کے وجود سے اسلام کو بڑی تقویت ملے گی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا: يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ ای شادی کی طرف خواجہ محمد نا صر صاحب کو پیشگوئی میں کہا گیا تھا کہ اس نور کی روشنی جو تم کو دی گی مسیح موعود کے نور میں گم ہو جائے گی اور اس کی طرف نعمت اللہ ولی نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔پسرش یاد گار می بینم اور اسی کی طرف خود خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو فرمایا: اُشُكُز نِعْمَتِى رَأَيْـ خَدِيجَتِي ان تمام پیشگوئیوں سے اس عظمت اور شان کا بآسانی پتہ لگ سکتا ہے جو اس خاتون اعظم کو اللہ تعالیٰ اور ملائکہ اور راستبازوں کی دنیا میں حاصل ہونے والی تھی وہ ایک خاص مقصد کے لئے دنیا میں لائی جارہی تھی وہ ایک نئی نسل کی بنیا د ر کھنے کے لئے پیدا کی جارہی تھی۔وہ ان ذمہ واریوں کو برداشت کرنے کے لئے لائی جارہی تھی جو ذمہ واریاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بروز محمد ﷺ کی ذات گرامی کے ذریعہ آپ کے وجود پر اصلاح خلق کیلئے عائد ہو نیوالی تھیں۔جس طرح مسیح موعود کی طرف روحانی دنیا کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں بالکل اسی طرح اس پاک خاتون کی طرف بھی لگی ہوئی تھیں جس نے ایک طرف ان ذمہ واریوں کا بوجھ اُٹھانا تھا اور دوسری طرف اس پاک نسل کو عالم وجود میں لانا تھا۔