سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 124
124 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی حالت میں سے گزرے ہوئے شخص کی طرح دولت جمع کرنے کے درپے ہو جاتے۔مگر ان کا کیریکٹر اس قدر مضبوط تھا کہ انہوں نے اپنے لئے کبھی یہ پسند نہ کیا کہ وہ اکل حرام کا تر لقمہ قبول کریں۔ان کی زندگی میں جس قد ر غذا اُن کے جسم میں داخل ہوئی وہ سب حلال اور طیب تھی اور اس سے جس قدرخون پیدا ہوا وہ صالح تھا اور اسی حلال، طیب زرق سے انہوں نے اپنے بال بچوں کی پرورش کی۔ایک ایسا شخص جس کے گرد و پیش ادنیٰ و اعلیٰ سب رشوت ستانی میں مبتلا ہوں اور وہ اس فعل میں اپنے ساتھیوں کا شریک نہ ہو اس کے لئے کام کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ان حالات میں حضرت میر صاحب کو جن دشوار گذار گھاٹیوں سے گزرنا پڑا ہو گا وہ ظاہر ہی ہے مگر انہوں نے دنیا کی زندگی کو مالی تنگی میں گزارنے کو اس فراوانی رزق پر ترجیح دی اس سے ان کے اس مقام تقویٰ کا پتہ چل سکتا ہے۔جس پر وہ ابتداء سے ہی گامزن تھے۔ایسے متقی شخص کیلئے جس نے باوجود آسانی سے ملنے کے ناجائز روپیہ پیدا نہ کیا اور ساری عمر تنخواہ پر بسر کی۔اس کے متعلق اگر کبھی کوئی شخص زبان طعن دراز کرتے ہوئے یہ کہے کہ اس نے سلسلہ کا روپیہ تباہ کیا تو یہ اس کی اپنی سیاہ باطنی کی ایک کھلی تصویر ہوگا اور سوائے اس کے کہ یہ اس کی اپنی سیاہ بختی کی تصویر ہو اور کیا ہوسکتا ہے۔رسول کریم ﷺ جو اپنی قوم میں راستباز اور امین مشہور تھے انہوں نے یہی چیز بطور دلیل کے پیش فرمائی۔فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ کہ جو شخص ساری عمر تم میں امین اور راستبازمشہور رہا۔وہ یک بیک خدا پر کیسے افتراء کر سکتا ہے۔پس بالکل یہی دلیل حضرت میر صاحب قبلہ کی نیکی اور پارسائی اور دیانت وامانت پر دلیل ہے کہ جس نے با وجو دضرورت کے باوجود تکلیف کے کبھی ایک پیسہ اپنی زندگی میں ناجائز قبول نہ کیا۔وہ اپنی زندگی کے آخری حصہ میں سلسلہ کے روپیہ میں کیسے تصرف کر سکتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ تیرہ قلب لوگوں کو خود بخود اپنی ہی ایسی تصویر میں نظر آتی ہیں ورنہ یہ پاک لوگ تو پاک ہی ہوتے ہیں۔حضرت ام المؤمنین کی پیدائش ۱۸۶۵ء میں حضرت میر صاحب کی شادی کے تین سال بعد وہ با اقبال لڑکی پیدا ہوئی جس کی