سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 123
123 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ قدر اپنی رشوت ستانی کی وجہ سے بد نام ہے اسے ہر شخص جانتا ہے۔مگر حضرت میر صاحب جن پر پچپن ہی سے وہابیت کا رنگ چڑھ گیا تھا۔وہ کب اس قسم کی حرام دولت کو لے سکتے تھے۔حضرت عرفانی کبیر نے ان کی سوانح حیات ناصر میں ان کی پاکیزہ زندگی پر لکھتے ہوئے ایک واقعہ لکھا ہے۔جو ان کی دیانت داری اور پاکیزگی کی شان کو دوبالا کرتا ہے۔انہوں نے لکھا ہے: وہ محکمہ نہر میں ملازم تھے۔افسران نہر نے ایک قاعدہ کے ماتحت ان سے سو روپیہ نقد کی ضمانت طلب کی۔ان کے معاصرین نے زرضمانت داخل کر دیا مگر میر صاحب نے کہا کہ میرے پاس روپیہ نہیں ہے اور فی الحقیقت نہیں تھا۔جو کام ان کے سپر دتھا (اوور سیری کا ) وہ اس میں ہزاروں روپے پیدا کر سکتے تھے اور لوگ کرتے تھے۔مگر وہ حلال اور حرام میں خدا کے فضل سے امتیاز کرتے تھے اور ان کی ملازمت کا عہد رشوت ستانی کے داغ سے بالکل پاک رہا اور اکل حلال ان کا عام شیوہ تھا۔غرض انہوں نے صاف کہا کہ میرے پاس روپیہ نہیں دوستوں نے ، افسروں نے ہر چند کہا۔کہ آپ روپیہ کسی سے قرض لیکر داخل کر دیں۔آپ یہی کہتے رہے کہ میں قرض ادا کہاں سے کروں گا۔میری ذاتی آمدنی سے قرض ادا نہیں ہوسکتا اور رشوت میں لیتا نہیں۔آخر ان کو نوٹس دیا گیا کہ یا تو روپیہ داخل کرو ور نہ علیحدہ کئے جاؤ گے۔انہوں نے عزم کر لیا کہ علیحد گی منظور ہے مگر معاملہ چیف انجنیئر تک پہنچا۔جب اس نے کاغذات کو دیکھا تو اسے بہت ہی خوشی ہوئی کہ اس کے محکمہ میں ایسا امین موجود ہے۔وہ جانتا تھا کہ سب اوور سیر ہزاروں روپیہ کما لیتے ہیں۔جو شخص ایک سو روپیہ داخل نہیں کر سکتا اور اسے علم ہے کہ اس عدم ادخال کا نتیجہ ملازمت سے علیحدگی ہے قرض بھی نہیں لیتا کہ اس کے ادا کرنے کا ذریعہ اس کے پاس نہیں۔وہ یقیناً امین ہے اور میر صاحب کو ادخالِ ضمانت سے اس نے مستثنیٰ کر دیا۔یہ تھا اثر ان کی دیانتداری اور راستبازی کا تمام محکمہ کو اس پر حیرت تھی۔“ ہے اس واقعہ سے حضرت میر صاحب کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ان کی راستبازی ، دیانت، ادائے فرض کا فکر ، عہد کی پابندی، یہ سب امور اس واقعہ سے ظاہر ہوتے ہیں اور یہی ہیں جن حالات میں سے حضرت میر صاحب گزرے تھے۔ان کا عام تقاضا یہی تھا کہ وہ ایک تکلیف