سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 115
115 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ساتھ وقف تھی مکان مسکونہ بنائی گئی اور اس طرح مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور کے ساتھ ہی وہ ظاہری آثار بھی گم ہو گئے اور اب اس بارہ دری میں ناصر سعید صاحب کی اولا د رہتی ہے۔یہ حالات دیدہ بینا کے لئے بہت کچھ حقائق اور بصیرت افروز امور اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔کس شان و شوکت سے جس چیز کا آغاز ہوا تھا کیسا بھیانک اس کا انجام ہوا۔یہ کیوں؟ اس لئے کہ اس خاندان کے لئے یہی مقدر تھا کہ اس کی روشنی اس نیر اعظم میں جس کا نام مسیح موعود علیہ السلام ہے گم ہو جائے گی۔کاش! دنیا سمجھے اور سوچے اور عبرت پکڑے۔خواجہ میر درد صاحب کی درگاہ کے ساتھ ایک بڑی شاندار باغیچی تھی یہیں اُن کا قبرستان بھی تھا اور عید گاہ بھی تھی۔خواجہ میر درد اسی جگہ عید پڑھنے جایا کرتے تھے۔قبرستان میں عام مسلمانوں کے مُردے بھی دفن ہوتے تھے۔باقیچی سو سال تک خوب بہار اور رونق پر رہی۔ایک چلہ خانہ بھی یہاں تھا جہاں صوفی لوگ چلہ کشی کرتے تھے۔اسی چلہ خانہ کے اوپر بارہ دری بنی ہوئی تھی اس ساری زمین کو بڑی رونق تھی۔لاکھوں بندگانِ خدا آتے تھے۔ذکر الہی ہوتا تھا بادشاہ ، امراء حاضر ہوتے تھے۔مگر آج یہ سب کچھ ویران ہے۔درخت کلہاڑوں اور آروں کی نظر ہو گئے۔قبروں پر گائے، بیل چرنے لگے اور وہاں نہ کوئی عمارت رہی اور نہ کوئی رونق اور نہ درخت۔وحشت اور ویرانگی چھا گئی۔وہ محفلیں جو کل نظر آتی تھیں۔آج اُن کی خاک اُڑتی بھی نظر نہیں آتی۔یہ سب کیوں ہوا؟ تا کہ الہی نوشتے پورے ہوں۔حضرت میر درد کا اپنا ایک شعر ہے جو اس ساری حالت پر گویا بطور پیشگوئی کہا گیا تھا خوب صادق آتا ہے۔فرماتے ہیں۔گزروں ہوں جس خرابہ پہ کہتے ہیں واں کے لوگ ہے کوئی دن کی بات یہ گھر تھا وہ باغ تھا 19 حوالہ جات تاریخ ہند صفحہ ۹۹، سیر المتاخرین صفحه ۵۵ سیر المتاخرین طبع اوّل صفحہ ۳۸ سیر المتاخرین طبع اوّل صفحه ۴۹ سیر المتاخرین طبع اوّل صفحه ۵۱