سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 112 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 112

112 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میر شفیع احمد صاحب ساکن فراشخانہ کی دختر بلند اختر سے کی۔اُن کا نام بی روشن آراء بیگم صاحبہ تھا۔بی روشن آراء بیگم کے متعلق خاندان کے تمام افراد یہی بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے نام کی طرح روشن آراء ہی تھیں۔وہ بڑی بزرگ اور مقدسہ خاتون تھیں۔بڑی نیک بخت اور عبادت گزار تھیں۔اُن کے بطن سے ایک صاحبزادے جو ہمارے واجب الاحترام بزرگ ہوئے، پیدا ہوئے۔یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب۔ان کی دو ہمشیرگان بھی تھیں۔ایک کا نام رفعت النساء بیگم صاحبہ تھا جن کی شادی حافظ منیر الدین صاحب کے صاحبزادے پیر جی بشیر الدین صاحب سے قصبہ جلیسر میں ہوئی اور دوسری صاحبزادی کا نام بی انجمن آراء بیگم صاحبہ تھا۔اُن کی شادی مولوی محمد یوسف صاحب بن مولوی عبدالقیوم صاحب سے ہوئی جو شاہ محمد اسحاق صاحب محدث کے نواسے تھے اور بھوپال میں سکونت پذیر تھے۔خواجہ ناصر امیر صاحب کی سجادہ نشینی جب خواجہ سید محمد نصیر صاحب کی وفات ہوگئی تو مسئلہ سجادہ نشینی بہت پیچیدہ ہو گیا۔خواجہ سید محمد نصیر صاحب کے بیٹے مولوی سید ناصر جان اُن کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے۔بالآ خر تمام مشائخ بارہ دری میں جمع ہوئے اور مشورے کے بعد طے ہوا کہ بی امانی بیگم صاحبہ کیونکہ امانی بیگم صاحبہ خواجہ صاحب میر کی بیٹی اور خواجہ میر درد صاحب کی پوتی تھیں۔ان سے استصواب کیا گیا۔یہ مولوی سید ناصر جان کی بیوہ تھیں۔انہوں نے کہا کہ : جس رتبہ کے بزرگ خواجہ میر درد صاحب ، خواجہ میر اثر صاحب اور میرے والد خواجہ صاحب میر صاحب تھے۔ویسا تو اب خاندان میں مجھے کوئی نظر نہیں آتا۔میرے شوہر تھے وہ تو رحلت کر گئے ہیں۔اس لئے میرے نزدیک میاں ناصر امیر خواجہ محمد نصیر صاحب کے نواسہ کو گدی پر بٹھا دیا جائے“۔چنانچہ اس مشورے کے ماتحت سب مشائخ نے سید ناصر امیر صاحب کو سجادہ نشین تسلیم کر لیا۔اس طرح خواجہ محمد ناصر کے گھر میں جو نور آیا تھا وہ منتقل ہو کر منشاء الہی کے ماتحت سید ناصرا میر صاحب کے گھر میں آگیا۔