سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 108 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 108

108 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس سے بآسانی اس امر کا پتہ چل سکتا ہے کہ اُس وقت صمصام الدولہ کی کیا طاقت تھی اور اُسے بادشاہ کی طبیعت میں کس قدر دخل تھا۔مظفر خان میر آتشی ۱۳۸ ہجری میں مظفر خان صاحب جو نواب خان دوران کے بھائی تھے کو میر آتشی یعنی با رودخانہ کی افسری کا عہدہ سرفراز کیا گیا۔۱۳ ۱۱۴۶ ہجری میں مرہٹوں نے گجرات اور مالوہ کے صوبوں کو تسخیر کر لیا تھا۔اُن کی سرکوبی کیلئے مظفر خان میر آتشی کو بھیجا گیا۔بائیس امیر مع سپاہ کے ساتھ تھے۔مگر مرہٹوں نے کسی جگہ مظفر خان کے لشکر سے جنگ نہ کی۔ے بالآ خر اس فتنہ کی سرکوبی کیلئے ۷ /ذیقعدہ ۱۱۴۹ ہجری میں صمصام الدولہ خود میں چالیس ہزار سوار مع توپ خانہ کے گئے اور ہندوستان کے بعض عمدہ راجے بھی ہمراہ تھے۔بادشاہ کے حضور صمصام الدولہ کی اس قدر عزت تھی کہ اس کی مرضی کے خلاف کسی کی بات نہ سنتا تھا اور جو بادشاہ کے دل میں آتا، اُسے لکھ بھیجا کرتا تھا۔۱۵ محمد شاہ کا زمانہ فرخ سیر کا زمانہ بھی گذر گیا۔اب محمد شاہ کا زمانہ آ گیا۔مگر نواب خان دوران ابھی تک بدستور کمانڈر انچیف افواج مغلیہ تھا۔محمد شاہ بھی اُن کی ہر ایک بات مانتا تھا۔حتی کہ نادرشاہ نے ہندوستان پر حملہ کر دیا۔تاریخ کی عام کتابوں سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ نادر شاہ کا مقابلہ کرنال کے قریب خانِ دوران خان سے ہوا مگر ایک کتاب جس کا نام ہی نادر شاہ ہے اور ۱۷۴۳ ء میں لنڈن میں طبع ہوئی تھی اور اب بالکل نادر ہے اس کا ایک نسخہ میں نے جناب مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب ریٹائرڈ جج ہائی کورٹ حیدر آباد دکن کی لائبریری میں دیکھا تھا جس میں لکھا ہوا ہے کہ خان دوران نے نادرشاہ کا دو دفعہ مقابلہ کیا۔ایک تو جب کہ وہ کابل سے گزر کر ہندوستان میں داخل ہورہا تھا۔اٹک میں اس سے جنگ ہوئی مگر خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔دوسرے جب نادر خان دہلی کے قریب آ گیا تو خان دوران خان اپنے دو بیٹوں سمیت کرنال کے قریب اس سے لڑنے کیلئے نکلا۔دہلی کے تمام عمائدین اُس وقت اپنے حو صلے ہار چکے تھے۔اطلاع آئی کہ چند قزلباش برہان الملک کے ڈیروں پر ہاتھ مار گئے۔یہ سن کر برہان الملک تلوار ٹیک کر اُٹھ