سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 657
657 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بجے جنازہ باہر لایا گیا اس وقت تک احمدی احباب کی کثیر تعداد جمع ہو چکی تھی۔جنازہ کوٹھی کی بیرونی ڈیوڑھی میں رکھا گیا۔جہاں ہزاروں احباب نے ایک ترتیب کے ساتھ حضرت نواب صاحب کی آخری زیارت کی اس کے بعد چار پائی کے ساتھ لمبے بانس باندھ دیئے گئے تا کہ کندھا دینے والوں کو سہولت ہو۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جنازہ کو کندھا دیا اور جنازہ گاہ تک ہزاروں افراد نے کندھا دینے یا درد بھری دعاؤں کے ساتھ ہاتھ لگانے کا ثواب حاصل کیا اور جنازہ دار الفضل اور دارالعلوم کی درمیانی سڑک پر سے شہر اور پھر وہاں سے باغ متصل مقبرہ بہشتی لے جایا گیا جہاں جانب غرب نماز جنازہ پڑھنے کا انتظام کیا گیا تھا اور صفیں سیدھی باندھنے کے لئے زمین پر سفیدی کے ساتھ خط کھینچ دیئے گئے تھے۔احمدی احباب کی کثیر تعداد جنازہ میں شریک ہونے کے لئے جمع ہو چکی تھی۔اندازہ ہے کہ قریباً تین ہزار افراد شریک ہوئے بہت سی خواتین بھی خود بخود پہنچ گئی تھیں۔وہ اس تعداد میں شامل نہیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور تمام مجمع نے رقت اور خشیت کے ساتھ حضرت نواب صاحب کے لئے دعائیں کیں۔نماز جنازہ کے بعد پھر حضور ایدہ اللہ نے چار پائی کو کندھا دیا اور جنازہ اس خاص احاطہ میں لے جایا گیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مزار ہے۔قبر حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم و مغفور کے بائیں جانب کھودی گئی۔میت کو لحد میں اتارنے کیلئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ مکرم نواب زادہ محمد عبد اللہ خاں صاحب اور مکرم نواب زادہ محمد احمد خاں صاحب اُترے اور چار پائی پر سے میت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے صاحبزادگان نے اُٹھایا۔میت کو لحد میں رکھنے کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور دوسرے احباب باہر نکل آئے۔لحد پر کچی اینٹیں چنی گئیں۔اس کے بعد حضور نے دونوں ہاتھوں سے تین دفعہ مٹی اٹھا کر قبر میں ڈالی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعا کے لئے تشریف لے گئے۔پھر سیدہ امتہ الحی صاحبہ، سیدہ سارہ بیگم صاحبہ اور سیدہ ام طاہر صاحبہ کی قبروں کے پاس تشریف لے گئے اور دعا فرمائی۔اس دوران میں دوسرے دوست حضرت نواب صاحب کی قبر پر مٹی ڈالتے رہے۔قبر مکمل ہونے پر حضور تشریف لائے اور تمام مجمع سمیت دعا فرمائی۔چونکہ عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اس لئے حضور نے اسی جگہ نماز پڑھائی جہاں جنازہ پڑھا گیا تھا