سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 631
631 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کا اثر ہم سب کے مجموعی اثر سے بھی کہیں زیادہ ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اسلام و مسلمین کی حفاظت و بهبودی اور قیام عظمت و شوکت کا جو خیال و جوش حضور کو ہے وہ کسی اور کو کہاں اور حضرت میر صاحب اس خیال و جوش کے جیسے دل دادہ حامی ، سر بکف معاون اور جان شار مددگار تھے۔وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں۔د مگر آپ کی وفات حسرت آیات پر ان سب نے اور خاص کر سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا ، وہی ہم کو بھی کرنا چاہیئے۔” حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کا فوت ہو جانا کسی خاص فرد یا پانچ سات دس ہیں افراد کا نقصان نہیں۔بلکہ تمام سلسلہ عالیہ احمدیہ کا نقصان عظیم ہے۔وہ یتیموں کے ملجا و ماوا تھے۔وہ مسکینوں اور محتاجوں کے ہمدرد و دستگیر تھے۔وہ علوم دینی کے بحرز خار تھے۔وہ حقائق و معارف کے دریائے نا پیدا کنار تھے۔وہ خطیب فصیح اللسان وعذب البیان تھے اور مناظر یکتا و بے ہمتا، محراب و ممبر کی ان سے زینت تھی اور کثیر خلق خدا کو ان سے راحت وہ شیدائے قرآن وحدیث اور عاشق خدا و رسول تھے۔وہ آیات الہیہ میں سے ایک بہت منور آیت تھے اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے عظیم الشان حجت ، دل ان کے درد فراق سے بے قرار ہیں اور آنکھیں اشک بار لیکن اسی بلانے والا ہے پیارا اے دل تو جاں فدا کر ”آپ ان کے خلف اکبر ہیں۔آپ کے بھائی، چھوٹے، والدہ مکرمہ غم دیدہ و در درسیدہ اللہ تعالیٰ ان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔آپ کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی اور آپ کے خیر طلب آپ سے ان اخلاق حمیدہ کے متوقع ہیں۔جو حضرت میر صاحب جیسے بلند پایہ و بزرگ انسان کا فرزند اکبر ہونے کے لحاظ سے آپ کے شایان شان ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ سب کو نوازے اور اپنے جامع الصفات والکمالات والد ماجد کا قائم مقام بنائے۔آمین یا رب العالمین۔