سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 611 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 611

611 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ لیکن اگر ایک کے بعد کام کرنے والے کئی موجود ہوں تو پھر نہ اپنوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے اور نہ دشمن کو خوش ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔پس اگر جماعت کے دوست اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے تو آج جو یہ گھبراہٹ پائی جاتی ہے نہ ہوتی۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے بروقت سمجھ دی اور میں نے نو جوانوں کو زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کی۔جس کے ماتحت آج نو جوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔لیکن ہمارا کام بہت وسیع ہے۔ہم نے دنیا کو صحیح علوم سے آگاہ کرنا ہے اور اس کیلئے ہزار ہا علماء درکار ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت اتنی بڑھ رہی ہے کہ آٹھ دس علماء تو ہر وقت ایسے چاہئیں جو مرکز میں رہیں اور مختلف مساجد میں قرآن و حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا درس با قاعدہ جاری رہے اور اس طرح نظر آئے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں زندہ موجود ہیں۔اب کام اتنا بڑھ گیا ہے کہ خود خلیفہ اسے نہیں سنبھال سکتا اگر قرآن کریم کا درس جاری رہے تو گویا کہ زندہ خدا ہم میں موجود ہوگا اگر حدیث کا درس جاری رہے تو گھر یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں زندہ ہونگے اگر کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس جاری رہے تو گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم میں زندہ ہوں گے۔سو یہ کتنی بڑی غفلت ہے جو جماعت سے ہوئی۔میں تو اس کا خیال کر کے بھی کانپ جاتا ہوں۔کتنے تھوڑے لوگ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یادگار تھے اور اب تو وہ اور بھی بہت کم رہ گئے ہیں۔اگر ان کے مرنے سے پہلے پہلے جماعت نے اس کمی کو پورا نہ کیا تو اس نقصان کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا جو جماعت کو پہنچے گا۔ذرا غور کرو ہمارے سامنے کتنا بڑا کام ہے اور کتنی بڑی کوتاہی ہے جو جماعت سے ہوئی۔پس اب بھی سنبھلو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یادگار لوگ اب بہت تھوڑے رہ گئے ہیں اور شاید تھوڑے ہی دن ہیں۔پھر میرے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں کہ میری عمر کتنی ہوگی اور اعلان مصلح موعود کے پیشگوئی پوری ہونے کے بعد بھی ہوسکتا ہے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے مجھ سے جتنا کام لینا ہو لے لیا ہو۔پس یہ بڑے خطرات کے دن ہیں۔اس لئے سنبھلو۔اپنے نفسوں سے دنیا کی محبتوں کو سرد کر دو اور دین کی خدمت کے لئے آگے آؤ۔اور ان لوگوں کے علوم کے وارث بنو جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت پائی۔تائم آئندہ نسلوں کو سنبھال سکو۔تم لوگ تھوڑے تھے اور تمہارے لئے تھوڑے مدرس کافی تھے مگر آئندہ آنے والی نسلوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی اور ان کے لئے بہت زیادہ مدرس درکار ہیں۔پس اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر go