سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 610 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 610

610 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خدمت کرتے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں لگے ہوتے تو دنیا کا عرفان اور علم ایسے بلند معیار پر آ جاتا کہ کسی قابل قدر خادم اسلام کی وفات پر جو یہ احساس پیدا ہوتا ہے اور یہ فکر لاحق ہوتا ہے کہ اب ہم کیا کریں گے یہ کبھی نہ ہوتا۔میر محمد اسحق صاحب خدمات سلسلہ کے لحاظ سے غیر معمولی وجود تھے۔در حقیقت میرے بعد علمی لحاظ سے جماعت کا فکر اگر کسی کو تھا، تو ان کو تھا رات دن قرآن وحدیث لوگوں کو پڑھانا ان کا مشغلہ تھا۔وہ زندگی کے آخری دور میں کئی بارموت کے منہ سے بچے۔جلسہ سالانہ پر وہ ایسا اندھا دھند کام کرتے کہ کئی بار اُن پر نمونیہ کا حملہ ہوا۔ایسے شخص کی وفات پر طبعا لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اب ہم کیا کریں گے۔لیکن اگر ہماری جماعت کا ہر شخص ویسا ہی بننے کی کوشش کرتا تو آج یہ احساس نہ پیدا ہوتا۔جب ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہو تو کسی کارکن کی وفات پر یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ اب ہم کیا کریں گے بلکہ ہر شخص جانتا ہے کہ ہم سب یہی کر رہے ہیں۔عزیز اور دوست کی جدائی کا غم تو ضرور ہوتا ہے مگر یہ احساس نہیں ہوتا کہ اب اس کا کام کون سنبھالے گا۔موت کا رنج تو لازمی بات ہے مگر یہ رنج مایوسی پیدا نہیں کرتا بلکہ ہر شخص ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے وقت پر چاروں کونوں کو سنبھال لیا تھا۔احباب کی اس غلطی کی وجہ سے کہ ہر ایک نے وقت پر اپنے آپ کو سلسلہ کا واحد نمائندہ تصور نہ کیا اور اس کے لئے کوشش نہ کی۔آج میر صاحب کی وفات ایسا بڑا نقصان ہے کہ نظر آ رہا ہے اس نقصان کو پورا کرنا آسان نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اس طرز کے آدمی تھے۔ان کے بعد حافظ روشن علی صاحب مرحوم تھے۔اور تیسرے اس رنگ میں میر صاحب رنگین تھے اور ان کی وفات کا بڑا صدمہ اس وجہ سے بھی ہے کہ ان جیسے اور لوگ جماعت میں موجود نہیں ہیں۔اگر اور لوگ بھی ایسے ہوتے تو بے شک ان کی وفات کا صدمہ ہوتا۔ویسا ہی صدمہ جیسا ایک عزیز کی وفات کا ہوتا ہے۔مگر جماعتی پہلو محفوظ ہوتا اور یہ دیکھ کر کہ اگر ایک آدمی فوت ہو گیا ہے تو خواہ وہ کسی رنگ کا تھا۔اس کی جگہ لینے والے کئی اور موجود ہیں۔جماعت کے لوگ مایوس نہ ہوتے اور وہ سمجھتے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت نے ایک آدمی ہم سے لے لیا ہے تو اس کے کئی قائم مقام موجود ہیں مگر قحط الرجال ایسی چیز ہے کہ جو لوگوں کے دلوں میں مایوسی پیدا کر دیتی ہے اور جب کام کا ایک آدمی فوت ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اب کیا ہوگا اور دشمن بھی کہتا ہے کہ اب یہ جماعت تباہ ہو جائے گی۔اب اس کا کام چلانے والا کوئی نہیں