سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 493
493 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میرا ساتھی یکہ سے اُتر آئے اور ایک پہاڑی آدمی کے مکان کی طرف گئے جو راستہ کے پاس تھا۔میرے ساتھی نے آگے بڑھ کر مالک مکان سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔مگر اس نے روکا اس پر ان کی باہم تکرار ہوگئی اور مالک مکان تیز ہو گیا اور گالیاں دینے لگا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں یہ تکرارسن کر آگے بڑھا۔جو نبی میری اور مالک مکان کی آنکھیں ملیں تو پیشتر اس کے کہ میں کچھ بولوں اس نے اپنا سر نیچے ڈال لیا اور کہا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ میری ایک جوان لڑکی ہے اس لئے میں اجنبی آدمی کو گھر میں نہیں گھنے دیتا مگر آپ بے شک اندر آ جائیں۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ وہ ایک اجنبی آدمی تھا۔نہ میں اُسے جانتا تھا اور نہ وہ مجھے جانتا تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ جب بڑے مرزا صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود کے والد صاحب ) کشمیر میں ملازم تھے تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہماری والدہ نے کہا کہ آج میرا دل کہتا ہے کہ کشمیر سے کچھ آئے گا تو اسی دن کشمیر سے آدمی آ گیا اور بعض اوقات تو ایسا ہوا کہ ادھر والدہ صاحبہ نے یہ کہا اور ادھر دروازہ پر کسی نے دستک دی۔دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ کشمیر سے آدمی آیا ہے۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ تمہارے دادا کشمیر سے اپنے آدمی کو چند ماہ کے بعد خط اور روپیہ دے کر بھیجا کرتے تھے۔نقدی وغیرہ چاندی سونے کی صورت میں ایک گدڑی کی تہہ کے اند رسلی ہوئی ہوتی تھی۔جو وہ آدمی راستہ میں پہنے رکھتا تھا اور قادیان پہنچ کر اتار کر اندر گھر میں بھیج دیتا۔گھر والے کھول کر نقدی نکال لیتے تھے اور پھر گدڑی واپس کر دیتے تھے۔نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا کشمیر میں صوبہ تھے۔اس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی بھی اُوپر سے تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ جس طرح انگریزوں میں آج کل ڈپٹی کمشنر وغیرہ ہوتے ہیں۔اسی طرح کشمیر میں صوبے گورنر علاقہ ہوتے تھے۔بسم الله الرحمن الرحيم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنوں میں سے منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔نیز بیان کیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے کہ جب مبارکہ بیگم ( ہماری ہمشیرہ) پیدا ہونے لگیں تو منگل کا دن تھا۔اس لئے حضرت صاحب نے دعا کی کہ منگل گزرنے کے بعد