سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 213
213 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی سمجھتی تھیں۔اس عالم تنہائی میں حضرت اُم المؤمنین بہت گھبرا ئیں۔انہوں نے خط لکھا کہ میں سخت گھبرائی ہوئی ہوں اور شاید میں اس غم اور گھبراہٹ سے مر جاؤں گی۔رخصتانہ سے ایک ماہ بعد حضرت میر صاحب قادیان آ کر حضرت اُم المؤمنین کو لے آئے۔فاطمہ بیگم سے حضرت نانی اماں نے پوچھا کہ لڑکی کیسی رہی؟ تو اس نے حضرت مسیح موعود کی بڑی تعریف کی اور کہا: لڑ کی یونہی شروع شروع میں اجنبیت کی وجہ سے گھبراگئی ہوگی۔ورنہ میرزا صاحب نے تو ان کو بہت ہی اچھی طرح سے رکھا ہے اور وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔“ نانی اماں نے حضرت ام المؤمنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا : 19° مجھے انہوں نے بڑے آرام کے ساتھ رکھا۔مگر میں یونہی گھبرا گئی تھی۔19 ان بیانات سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت اُم المؤمنین کن حالات میں پہلی مرتبہ قادیان میں رہیں۔گھر کے عام افراد سے تو میل جول نہ تھا۔البتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عَاشِرُوا هُنَّ بِالْمَعْرُوفِ کا کامل نمونہ تھے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا بیان میری درخواست پر حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے ایک قیمتی مضمون لکھ کر شملہ سے بھجوایا۔میں ان کی کرم فرمائی اور اس احسان کا از حد شکر گزار ہوں۔انہوں نے حضرت اُم المؤمنین کی زبانی ایک روایت تحریر فرمائی ہے : ”اماں جان نے ایک دفعہ ذکر فرمایا۔جب تمہارے ابا مجھے بیاہ کر لائے تو یہاں سب کنبہ سخت مخالف تھا ( اس وقت تک شادی کی ہی وجہ سے غالباً )۔دو چار خادم مرد تھے اور پیچھے سے ان بیچاروں کی بھی گھر والوں نے روٹی بند کر رکھی تھی۔گھر میں عورت کوئی نہ تھی۔صرف میرے ساتھ فاطمہ بیگم تھیں۔وہ کسی کی زبان نہ بجھتی تھیں نہ ان کی کوئی سمجھے۔شام کا وقت بلکہ رات تھی جب ہم پہنچے۔تنہائی کا عالم، بیگانہ وطن، میرے دل کی عجیب حالت تھی اور روتے روتے میرا بُرا حال ہو گیا تھا نہ کوئی اپنا تسلی دینے والا۔نہ منہ دھلانے والا ، نہ کھانے پلانے