سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 200
200 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بھی یہ اعتراض کرتے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے اعتراض کرنے والے ایک اندرونی جذام میں مبتلا تھے۔ایک کوڑھ تھا جو ان کو اندر ہی اندر کھاتا جاتا تھا۔جس نے ان کے ایمان کی عمارت کو جڑوں تک کھوکھلا کر دیا تھا۔پس اُم المؤمنین اس لئے ام المؤمنین ہے کہ وہ ایک نبی کی بیوی ہے۔اور وہ اس لئے اُم المؤمنین ہے کہ مسیح موعود کی بیوی ہے۔وہ اس لئے اُم المؤمنین ہیں کہ وہ ہمارے ایسے باپ کی زوجہ ہیں جو انسانی روح کی تولید کرتا ہے۔اس لئے یہ حتمی فیصلہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کے اعتراضات کرتے تھے یا کرتے ہیں یا کریں گے ان کا روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ان کو نہ معرفت حاصل ہے اور نہ قرآن اور نہ حضرت رسول کریم کی احادیث پر کوئی ایمان ہے۔پس اس سے حضرت اُم المؤمنین کے مقام اور شان کا بآسانی پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ کیوں اور کیسے اُم المؤمنین کہلائیں۔ائم المؤمنین کہلانے کا حق صرف اماں جان ہی کو ہے! دسمبر ۱۹۲۳ء میں حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے سیدہ امتہ الحی مرحومہ کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا تھا۔کہ وہ بھی ایک رنگ میں آپ کی والدہ ہیں۔“ اس پر بعض دوستوں کو غلط فہمی ہوئی اور انہوں نے حضرت امیر المومنین کی بیویوں کو بھی ائم المؤمنین لکھنا شروع کر دیا۔اس پر آپ نے ۱۹ دسمبر کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: ور بعض دوستوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔انہوں نے میری بیویوں کی نسبت اُم المؤمنین کا لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔اس خیال سے کہ کسی کے لئے یہ امر ٹھوکر کا موجب نہ بن جائے۔میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ائم المؤمنین کا خطاب صرف انبیاء کی بیویوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔بعض محاورے خاص ہوتے ہیں۔جن کو عام نہیں کیا جا پس بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ایک خاص مقام پر جا کر استعمال کئے جاتے ہیں۔اس سے پہلے ان کا استعمال جائز نہیں ہوتا۔جیسا کہ ایک شخص جس کے پاس ایک پیسہ یا پانچ سات روپے ہوں ہم کہتے ہیں کہ اس کے پاس مال ہے لیکن ہم اس کو مالدار نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ ایک ایسا محاورہ ہو گیا ہے جو ایک خاص مقدار پر پہنچ کر استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح ام المؤمنین کا لفظ انبیاء کی بیویوں کے ساتھ ہی خصوصیت رکھتا ہے اور یہ مرتبہ سکتا۔