سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 114
114 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بھی بند کر دیا اس لئے ان سب متعلقین کو تکلیف ہو گئی۔اسی سلسلہ میں خواجہ ناصرا میر صاحب بھی ناصری گنج تشریف لے گئے تا کہ نالش کر کے اپنے حقوق حاصل کریں۔مگر قضاء الہی کے ماتحت وہ ۱۶/ ذوالحجہ ۱۲۷۰ ہجری مطابق ۱۰/ ستمبر ۱۸۵۴ء کو مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے۔خواجہ سید ناصر وز یر صاحب خواجہ سید ناصر امیر صاحب کی وفات کے بعد بی امانی بیگم کے مشورے سے سید ناصر امیر کے بڑے بیٹے ناصر وزیر صاحب کو گدی نشین کر دیا گیا۔انہوں نے اپنے طریقہ محمدیہ کے علاوہ طریقہ مجددیہ نقشبندیہ اور سہروردیہ اور قادریہ کو بھی حاصل کیا۔فقہ حدیث بھی پڑھی۔خط نسخ، نستعلیق ، شفیعہ، شکسته و خط ناخن وغیرہ میں کمال حاصل کیا۔مسجد میر درد کی تجدید کرائی۔آپ نے عرسوں وغیرہ کو خوب ترقی دی۔آپ ۱۲۹۸ ہجری ماہ شعبان میں حج سے واپس آ کر مرض اسہال کی وجہ سے فوت ہو گئے۔سید ناصر وزیر کی شادی نواب امین الدین خان صاحب جا گیر دار لو ہارو کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔آپ کی اولاد آپ کے تین لڑکے پیدا ہوئے۔جن کے حسب ذیل نام ہیں۔سید ناصر خلیل عرف کلن، سید ناصر سعید عرف ابن، چھوٹے کا نام سید ناصر وحید تھا۔یہ تینوں اصحاب بھی فوت ہو چکے ہیں۔البتہ سید ناصر خلیل صاحب کے بیٹے سید ناصر جلیل صاحب گلبرگہ دکن میں ملازم ہیں اور صاحب اولاد ہیں۔سید ناصر وزیر صاحب کی تین صاحبزادیاں تھیں۔بڑی لڑکی جناب محی الدین صاحب کو بیاہی گئیں۔وہ خود فوت ہوگئی ہیں۔اُن کی اولا د موجود ہے۔دوسری لڑکی مومن خان کے نواسہ سے بیاہی گئیں۔یہ بھی صاحب اولاد ہیں۔تیسری لڑکی کی شادی میرزا محمد سعید بیگ صاحب بن میرزا مہرعلی بیگ صاحب ساکن کو چہ پنڈت دہلی سے ہوئی۔ان کے بطن سے ایک لڑکی اور دولڑ کے پیدا ہوئے۔آخری انجام خواجہ ناصر وزیر کی وفات کے بعد خواجہ ناصر خلیل اور ناصر سعید میں جھگڑا ہو گیا۔اس جھگڑے کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواجہ میر درد صاحب کا عبادتخانہ جسے حجرہ کہتے تھے پک گیا اور بارہ دری جو عبادت خانہ کے