سید محموداللہ شاہ — Page 85
85 ”حضرت شاہ صاحب مجسمہ فضائل تھے“ مکرم ومحترم مولانا محمد ابراہیم صاحب بھامبڑی) ( نوٹ : مکرم و محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب بھامبڑی نے درج ذیل تاثرات لکھ کر عنایت فرمائے ہیں۔) نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ نیز اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے۔کُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِ كُرَامِ ( سورة الرحمن) وہ وحدہ لاشریک ہے اور لازوال ہے۔سب موت کا شکار ہیں اس کو فنا نہیں۔آخر یہی کہنا پڑتا ہے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں۔اَلَا يَا سَاكِنَ الْقَصْرِ الْمُعَلَّى سَتُدْفَنُ عَبْقَرِيبٍ فِي التُّرَابِ موت کے بعد انسان ایک کہانی رہ جاتی ہے۔عربی زبان کا ایک مقولہ ہے اِنَّمَا الْمَرْءُ حَدِيثُ فَكُنْ حَدِيثًا حَسَنًا انسان تو ایک افسانہ بن کر رہ جائے گا۔پس تو اپنے یاد کر نے والوں کیلئے اچھی کہانی بن جا۔حضرت شاہ صاحب مرحوم ایک سنہری داستان ہیں اور مجسمہ فضائل تھے۔مجھے اُن کے ساتھ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۲ ء تک کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔( یعنی حضرت شاہ صاحب کی زندگی کے آخری ۶ سال ) اور میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسی کتاب اور رجسٹر ہیں جن کی بے شمار نقلیں ہونی چاہئیں۔زندہ قوم وہی ہوتی ہے جس کی نوخیز نسل اپنے بزرگوں کی جگہ لے۔