سید محموداللہ شاہ — Page 72
72 حضرت خلیفہ مسیح الا ول کے درسوں میں شمولیت شاہ صاحب حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ( نور اللہ مرقدہ ) کے درسوں میں باقاعدہ شامل ہوتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ درس کے بعد نماز کا وقت آیا تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ میری طبیعت خراب ہے میں نماز نہیں پڑھاؤں گا۔دوسروں لوگوں نے مختلف لوگوں کو امامت کیلئے تجویز کیا مگر حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ( نوراللہ مرقدہ ) نے فرمایا کہ شاہ صاحب نماز پڑھائیں گے شاہ صاحب کی عمر اس وقت چودہ پندرہ سال کی تھی۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول ( نور اللہ مرقدہ ) بیمار تھے۔لڑکے قطار بنا کر نماز ادا کرنے جارہے تھے۔پیروں کی آواز سن کر حضرت خلیفہ اول ( نور اللہ مرقدہ ) نے فرمایا کہ یہ کیسی آواز ہے تو انہیں بتایا گیا کہ لڑکے نماز پڑھنے جارہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ان کے استاد کو بلاؤ۔جب استاد آیا تو آپ نے نام دریافت فرمائے اور پوچھا کہ کون کون نماز پڑھنے جا رہا ہے۔استاد نے تین چار نام بتائے آخر میں اس نے کہا کہ سید محمود اللہ شاہ صاحب بھی ہیں اس پر حضرت خلیفہ اول ( نور اللہ مرقدہ ) نے فرمایا کہ "جو شخص سید بھی ہے اور حافظ بھی ہے اس کا نام سب سے اخیر میں لیتے ہو۔“ حضرت خلیفہ اول ( نور اللہ مرقدہ ) فرمایا کرتے تھے کہ ان چاروں بھائیوں کو دیکھ کر طبیعت بہت خوش ہوتی ہے۔ان کے والد نے ان کو تربیت نہایت اچھے رنگ میں کی ہے۔خود نیک ہونا بڑی بات ہے مگر آگے اولادکو اپنے رنگ میں رنگین کرنا بھی کمال ہے۔شاہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ نماز تہجد ہم باقاعدہ ادا کیا کرتے تھے اور ہم بچپن میں سمجھا کرتے تھے کہ پانچوں نمازوں کی طرح تہجد بھی فرض ہے۔اس لئے کہ ہمارے گھر میں تہجد کی نماز با قاعدہ ادا کی جاتی تھی۔چھوٹے بڑے سبھی تہجد پڑھا کرتے تھے۔شاہ صاحب شروع سے ہی علم دوست انسان تھے اور کتب بینی کا بہت شوق تھا۔میں چنیوٹ جاتا تو شاہ صاحب کے پاس قیام کرتا۔باتوں باتوں میں جب کبھی کسی نئی کتاب کی نسبت میں دریافت کرتا تو شاہ صاحب کی طرف سے جواب ملتا کہ میں نے کالج کے زمانہ