سید محموداللہ شاہ — Page 68
68 جائیں اور آرام کریں میں انتظام کرلوں گا کام کا آپ فکر نہ کریں۔بیرونی سکولوں کے ہیڈ ماسٹر الا ماشاء اللہ اپنے ماتحت اساتذہ سے مراعات اور خدمات کی توقع رکھتے ہیں اور ان کے وقت اور مال پر اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن یہ عجیب قسم کے انسان تھے خود دوستوں کی خدمت کرتے اور اپنی گرہ سے خرچ کر کے ان کو اپنا گرویدہ بناتے۔آپ کی صحت بالعموم خراب رہتی تھی۔زیادہ مغز ماری کرنا اور تفاصیل پر وقت ضائع کرنا آپ کے مفاد کے منافی تھا اور اصل نگرانی کے کام میں حارج ہوتا تھا۔پچھلے سال ایک ایسا ہی مرحلہ پیش آیا جس کو سر انجام دینے کے لئے میں نے اپنی خدمات پیش کر دیں۔مان لیا میں نے آپ کی ہدایات کے ماتحت اس کام کی تکمیل کی۔لیکن جب معاوضہ کا وقت آیا تو میرے احتجاج کے باوجود اس کا اعزاز میری طرف منتقل کر دیا کس قدر بلند اخلاقی اور بے نفسی کا مظاہرہ ہے۔رفقاء کار سے چشم پوشی اپنے رفقاء کار سے پورا پورا کام لینا جس تدبیر اور وسیع حوصلہ کو چاہتا ہے۔شاہ صاحب کو نظم و ضبط قائم رکھنے کی خاطر اساتذہ سے بعض اوقات تختی بھی کرنا پڑتی اور میں محسوس کرتا ہوں کئی دفعہ آپ پر بیماری کے حملہ کا باعث ہماری ہی کوتاہی ہوتی۔لیکن اساتذہ سے بالمشافہ ناراضگی کا اظہار کرنا شاذ کا حکم رکھتا تھا۔آپ کا بالعموم فرائض کی طرف توجہ دلانے کا طریق نہایت ہی مستحسن تھا۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب بنگالی نے بتایا کہ وہ احمد نگر میں رہائش رکھنے کے باعث اکثر اوقات وقت پر سکول نہ پہنچ سکتے تھے۔اس بے قاعدگی کا بعض دفعہ سکول کے انتظام پر بھی اثر پڑتا۔لیکن آپ کے اخلاق کا کمال یہ تھا کہ بنگالی صاحب کی مجبوری کو پیش نظر رکھتے ہوئے کبھی زبان سے کچھ نہ کہا۔شاہ صاحب خود بھی کچھ مدت ربوہ میں رہے اور سکول ابھی چنیوٹ میں ہی تھا۔اتفاق سے ایک مرتبہ بنگالی صاحب اور شاہ صاحب ایک ہی بس سے چنیوٹ پہنچے۔( بالعموم آپ ربوہ میں رہتے ہوئے بھی سکول سے آدھ گھنٹہ پہلے دفتر میں پہنچ جایا کرتے تھے ) بنگالی صاحب فرماتے ہیں۔شاہ صاحب اڈا پر میرے ساتھ بس کا انتظار کر رہے تھے اور انہیں دیکھ کر کہا کہ آپ اپنا کام ختم کر لیں۔میں آپ کی جگہ کوئی اور انتظام کر دیتا