سید محموداللہ شاہ — Page 73
73 میں ہی سکاٹ کی ایک مشہور کتاب کا مطالعہ کر لیا تھا۔اسی شوق کی وجہ سے آپ کی انگریزی بہت اعلیٰ تھی۔خاکسار کو جب کبھی جواب ملتا کہ ہاں وہ کتاب میں لاہور سے لے آیا تھا اور میں نے چند دن ہی ہوئے ختم کی ہے۔خاکسار نے ۱۹۱۶ء میں میٹرک کیا اور شاہ صاحب ۱۹۱۷ء میں میٹرک پاس کر کے اسلامیہ کالج میں داخل ہو گئے۔ولایت کی تعلیم اسلامیہ کالج سے بی۔اے کرنے کے بعد غالباً ۱۹۲۱ء میں شاہ صاحب ریلوے انجینئر نگ کے لئے ولایت گئے۔( دعوۃ الی اللہ ) کا شوق بہت تھا۔چنانچہ وہاں انگریزوں سے مل کر ان کو ( دعوۃ الی اللہ ) کیا کرتے تھے۔وہ انگریز ان کی باتوں کو شوق سے سنتے تھے اور برانہیں مناتے تھے۔باقاعدہ (دعوۃ الی اللہ ) کا کام تو شاہ صاحب نہیں کرتے تھے مگر باتوں باتوں میں ان کو ( دین حق ) کی خوبیاں سمجھاتے رہتے تھے اور اسی طریق سے وہ کئی انگریزوں کے دلوں سے ( دین حق ) کی نسبت غلط فہمیاں دور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ولایت میں ہی شاہ صاحب کو اپنی والدہ ماجدہ اور پہلی بیوی کی وفات کی خبر ملی۔اس کے بعد ولایت میں ان کا دل نہ لگا۔وہ تین سال وہاں تعلیم حاصل کر کے غالباً ۱۹۲۴ ء میں واپس وطن تشریف لے آئے۔جب واپس وطن آئے تو شروع شروع میں ملازمت نہ ملی۔مگر پھر کوشش کرنے پر کلکتہ میں ملازمت مل گئی۔وہاں کے محکمہ کے لوگ سخت بے دین تھے جو کہ شاہ صاحب کو سخت ناگوار تھا۔وہاں آپ بیمار بھی ہو گئے اور بیماری میں یہ واپس گھر آگئے اور اپنے والد محترم کے زیر علاج رہے جو کہ ایک ماہر ڈاکٹر تھے۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے مشورہ کر کے علی گڑھ بی ٹی پاس کرنے کی غرض سے تشریف لے گئے۔وہاں بھی شاہ صاحب کی پابندی صوم وصلوٰۃ کی وجہ سے ساتھ رہنے والے طالب علم بہت متاثر ہوئے۔خود فرمایا کرتے تھے کہ میں نے پڑھائی میں اتنی دلچسپی نہیں لی تھی جتنی کالج کے دوسروں کاموں میں پھر بھی Theory میں فرسٹ آئے تھے اور پریکٹس میں سیکنڈ نکلے۔بی ٹی کرنے کے بعد تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں ٹیچر لگ