سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 71 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 71

71 شاہ صاحب کے والد صاحب کو بہت شوق تھا کہ ان کے بچے قرآن شریف پڑھ جائیں اور دوسرے انہیں وقت پر نماز پڑھنے کی عادت پڑ جائے۔اس مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت شاہ صاحب ان دونوں کو صبح سویرے ہی حافظ صاحب کے پاس بھجوا دیتے اور یہ دن بھر وہیں رہتے تھے۔کھانا بھی وہیں ہوتا تھا اور عشاء کے وقت وہاں سے لے آتے تھے جن دنوں وہ قرآن شریف حفظ کر رہے تھے۔تو سید محمود اللہ شاہ صاحب اپنے والدین کے ساتھ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن شریف کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔حضرت صاحب سن کر بہت خوش ہوئے اور ان کو پیار سے گود میں بٹھا لیا۔محمود اللہ شاہ صاحب نے آٹھ نو سال کی عمر میں مکمل قرآن شریف حفظ کر لیا تھا۔سید محمود اللہ شاہ صاحب کی بڑی ہمشیرہ یعنی والدہ صاحبہ سید عبداللہ شاہ صاحب سے روایت ہے کہ بچپن میں شاہ صاحب گھر میں کسی سے مانگ کر یا کسی سے چھین کر نہیں کھایا کرتے تھے۔مزاج میں ضد شوخی یا چڑ چڑا پن نہیں تھا۔بہت سنجیدہ خاموش اور کوہ وقار تھے۔سکول کا زمانہ جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا ہے کہ خاکسار بھی بورڈنگ میں شاہ صاحب کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا۔شاہ صاحب کے بڑے بھائی میرے کلاس فیلو تھے اور شاہ صاحب ہم سے ایک کلاس پیچھے تھے۔ہم قطار بنا کر نمازیں پڑھنے جایا کرتے تھے تو محمود اللہ شاہ صاحب قطار میں سب سے پیچھے رہا کرتے تھے۔شاہ صاحب بہت ہی شرمیلے واقع ہوئے تھے۔دوسرے لڑتے جھگڑتے تھے۔مگر میں نے شاہ صاحب کو کسی سے لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی اونچی آواز سے بولتے سنا وہ متانت اور نہایت خاموشی سے اپنے کام میں لگے رہتے تھے۔ہمارے بورڈنگ میں ہفتہ واری میٹنگ ہوا کرتی تھی۔جس میں شاہ صاحب تلاوت قرآن کریم کے کام کو سرانجام دیا کرتے تھے بازار میں کھڑے ہو کر کوئی چیز نہ کھاتے تھے۔