سید محموداللہ شاہ — Page 67
67 الغرض کوئی شخص خواہ جماعت اور سلسلہ کا کتنا ہی مخالف کیوں نہ ہو آپ کے اخلاق اور اخلاص کا معترف بلکہ مداح تھا اور سلسلہ کی اس طرح بلا واسطہ (دعوت الی اللہ ) جس خوبی اور احسن طور پر آپ کے وجود سے ہوئی اس کا اجر ہمیشہ آپ کو مالتارہ لگا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ بہت خوش گفتار اور جہاندیدہ تھے ہر مجلس پر چھا جاتے۔محکمہ تعلیم کے انسپکٹر اور دیگر افسران جن سے تعلیم والے عام طور پر مرعوب ہوتے ہیں وہ خودشاہ صاحب کی مجلس میں بجائے باتیں سنانے اور مجلس پر چھانے کے ان کی طرف توجہ کرتے اور ان سے باتیں سننے پر مجبور ہوتے۔ایک دفعہ متحدہ پنجاب کے زمانہ میں صوبہ کے ہیڈ ماسٹروں کی لدھیانہ میں ایک کانفرنس ہوئی آپ بھی شامل ہوئے۔محترم میاں عبدالحکیم صاحب ہیڈ ماسٹر اسلامیہ ہائی سکول لاہور آپ کو طالب علمی کے زمانہ سے جانتے تھے۔باوجود غیر از جماعت ہونے کے آپ کو دیکھتے ہی صدارت کے لئے آپ کا نام تجویز کر دیا اور دوسروں نے تائید کی۔آپ کی اسی لیاقت اور ہر دلعزیزی کا ہی نتیجہ تھا کہ ایسویسی ایشن کا اگلا اجلاس قادیان میں ہی منعقد ہوا اور صوبہ بھر کے ہیڈ ماسٹر اس میں شریک ہوئے اور سلسلہ کے مرکز اور اس کے عہد یداروں سے متعارف ہوئے۔باوجود اس کے طبیعت میں اس قدر استغنی اور بے نفسی تھی کہ کسی عہدہ یا اعزاز کو قطعاً قبول نہ کرتے۔جب تک کہ خود دعا کر کے آپ کو اس بات کا یقین نہ ہو جاتا کہ اس میں سلسلہ کی بہتری ہوگی۔ابھی پچھلے دنوں سکول بورڈ کا ممبر بننے کی طرف بعض دوستوں نے توجہ دلائی تو دوستوں کے احترام کی خاطر نامزدگی تو منظور کر لی۔لیکن خود جد و جہد کرنا اور دوسروں سے متعارف ہونا گوارا نہ کیا۔تالیف قلوب اور نے نفسی شاہ صاحب بلا کے ذہین اور زیرک انسان تھے۔ابھی آپ نے بات کی ابتدا ہی کی ہو تفاصیل بیان نہ کی ہوں فورآبات کی تہ تک پہنچ جاتے اور تالیف قلب کرتے ہوئے اسی وقت آپ کے حسب منشاء جواب دے دیتے۔اساتذہ کی کسی روز صحت خراب ہوتی ، دورانِ سکول آپ کے پاس کیفیت بیان کرنے جاتے۔پہلا فقرہ ہی سنتے تو کہہ دیتے آپ گھر چلے