سید محموداللہ شاہ — Page 59
509 59 اطاعت خلافت مکرم و محترم شیخ مبارک احمد صاحب مرحوم مربی مشرقی افریقہ، انگلستان و امریکہ نومبر ۱۹۳۴ء میں نیروبی کیلئے روانہ ہوئے۔اس کے بارہ میں آپ اپنی خود نوشت سوانح حیات میں تحریر کرتے ہیں۔روانگی سے قبل حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے انصر خلافت میں ملاقات کا شرف حاصل کیا۔دعا اور حضور کی ہدایت سے محفوظ اور مستفیض ہوا۔اس ملاقات میں بعض اور باتوں کے حضور نے اس عاجز سے یہ بھی فرمایا۔پتلون نہیں پہنی اور مزید یہ ارشاد کہ آج کل سید محمود اللہ شاہ صاحب رخصت پر آئے ہوئے ہیں وہ میری کوٹھی پر ٹھہرے ہوئے ہیں ان سے مل لینا“۔حضرت شاہ صاحب کئی سالوں سے نیروبی میں رہ رہے تھے۔وہاں کے حالات وکوائف سے خوب واقف تھے۔پانچ سال بعد چھ ماہ کی رخصت پر آئے تھے۔خاکسار حضور کی ملاقات سے فارغ ہو کر سیدھا محلہ دارالا نوار حضور کی کوٹھی پر جا پہنچا اورمحترم شاہ صاحب سے ملاقات کی۔ابتدائی گفتگو کے بعد انہیں بتایا کہ خاکسار کو نیروبی جانے کی ہدایت ہے اور حضور سے ابھی مل کر آ رہا ہوں۔حضور نے ہی بتایا کہ آپ نیروبی سے رخصت پر آئے ہوئے ہیں اور حضور نے یہ بھی فرمایا کہ آپ سے مل لوں۔جونہی انہیں یہ بتایا کہ خاکسار کی تقرری بطور (مربی) نیروبی کیلئے ہوئی ہے یہ سنتے ہی شاہ صاحب نے فرمایا ”چار پانچ سوٹ سلوالیں۔انگریزوں کی حکومت ہے اور کینیا کالونی ہے۔لباس وغیرہ کا ان لوگوں کو خاص احساس ہوتا ہے۔ان سے یہ سن کر خاکسار نے شاہ صاحب کو بتایا کہ ابھی حضور سے مل کر آ رہا ہوں اور حضور نے تو یہ مجھے ہدایت فرمائی ہے۔” پتلون نہیں پہنی، حضور کے اس ارشاد کوسن کر شاہ صاحب خاموش ہو گئے۔ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا۔ویسے شاہ صاحب تپاک سے ملے اور خاکسار کی تقرری پر اطمینان کا اظہار فرمایا“۔کیفیات زندگی خود نوشت سوانح حیات شیخ مبارک احمد صاحب صفحه ۵۵-۵۶)