سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 49 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 49

49 وو میں نے ۲۲ فروری کو مقامی اے۔ڈی۔آئی آف سکولز کی معیت میں تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ کا ایک مختصر سا معائنہ کیا۔قادیان کا یہ سکول گورنمنٹ کی آبادی کاری کی سکیم کے ماتحت ماہ نومبر میں ایم۔بی۔ڈی ہائی سکول چنیوٹ کی متروک عمارت میں منتقل کیا گیا۔یہ عمارت غیر مسلم پناہ گزینوں کی مشرقی پنجاب کو روانگی سے پیشتر ان کی عارضی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیر مسلم یہاں سے نکلنے سے پہلے اس کی احاطہ کی دیوار، فرنیچر سکول کی آسائش و آرائش کی چیزیں ، سائنس کا سامان، لائبریری کی کتب بلکہ اس کے تمام دروازے اور کھڑکیوں تک کو یا تو تباہ و برباد کر گئے یا جلا کر راکھ کا ڈھیر کر گئے۔چنانچہ جب یہاں تعلیم الاسلام کا ہائی سکول جاری ہوا تو یہ عمارت نا قابلِ استعمال تھی۔سکول والوں نے جناب ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ کی خدمت میں مالی اور دیگر امداد کی درخواست کی تاکہ اس عمارت کو اس کی اصلی حالت پر لا کر اسے مفید مطلب بنایا جائے۔صاحب موصوف نے از راہ مہربانی فراخدلی سے امداد کی۔چنانچہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ اس سکول کے ہیڈ ماسٹر ( سید محمود اللہ شاہ صاحب ) اور ان کے عملہ کی مساعی اور مؤ ثر نگرانی کے طفیل اب سکول کی ہر چیز با سلیقہ نظر آتی ہے اور جماعتوں میں تعلیمی کام باقاعدگی سے جاری ہو چکا ہے۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سکول میں اس کے پرانے اور تجربہ کار ہیڈ ماسٹر سید محمود اللہ شاہ صاحب بی۔اے بی ٹی کی مؤثر نگرانی میں عمدہ تعلیمی کام ہو رہا ہے اور سکول کا سٹاف بے نفسی سے ایک منظم اور منضبط ٹیم کی طرح ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے سکول کی تعلیمی حالت کو بلند کرنے اور اعلیٰ ترین معیار پر لانے کی کوشش کر رہا ہے اس سکول کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں دینیات ایک لازمی مضمون قرار دیا جاتا ہے اور دینی علوم کی تعلیم سکول کا ایک اہم تعلیمی حصہ ہے یہ امر قابلِ ستائش ہے کہ قرآن کریم ناظرہ پرائمری تک اور با ترجمہ ہائی تک ختم کروایا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس سکول کے طلبا آخری امتحان سے فارغ ہو جاتے ہیں تو انہیں کلام الہی کے مطالب پر اچھا خاصہ عبور حاصل ہو چکا ہوتا ہے۔