سید محموداللہ شاہ — Page 27
27 شپ حاصل کی اور بعض کتب خانوں میں دعوۃ الی اللہ کی غرض سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کا لٹریچر بھی رکھوایا۔آپ نے مشرقی افریقہ کی جماعت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔آپ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ احباب مشرقی افریقہ سے چندہ وصول کر کے باقاعدہ مرکز قادیان بھجوایا جائے۔مشرقی افریقہ میں تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ جماعتی خدمات میں بھی پیش پیش تھے۔کینیا میں قیام کے دوران آپ کی خدمات پر مشتمل رپورٹس کی ایک طویل فہرست ہے۔اس جگہ اجمالی طور پر آپ کی خدمات کا تذکرہ پیش کیا جا رہا ہے۔(مشرقی افریقہ میں احمدیت کی تاریخ و حالات کیلئے مولانا صدیق امرتسری صاحب کی کتاب ” روح پرور یادیں ، شیخ مبارک احمد صاحب کی خود نوشت سوانح " کیفیات زندگی" اور اخبار الحکم قادیان مارچ ۱۹۰۱ ء مضمون حضرت بابومحمد افضل خان صاحب ملاحظہ کیجئے۔) نیروبی جماعت کی امتیازی حیثیت حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب ۱۹۲۹ ء سے ۱۹۳۴ ء تک تدریسی امور کے ساتھ ساتھ مختلف جماعتی عہدوں پر بھی فائز رہے۔تحریر وتقریر سے بھی خدمات بجالاتے رہے۔۱۹۳۴ء میں جماعت احمدیہ نیروبی کینیا کے امیر جماعت کے طور پر خدمات پر مامور تھے۔(۱۹۳۴ ء کی انجمن کی سالانہ رپورٹ سے ماخوذ ) جماعت نیروبی سید معراج الدین صاحب پریذیڈنٹ اور سید محمود اللہ شاہ صاحب امیر جماعت احمد یہ اور ان کے مستعد اور مخلص آنریری کارکنوں کی ہمت سے آخری چار سالوں میں خصوصیت سے مرکز کی توجہ کا باعث رہی۔جماعت احمد یہ نیروبی میں اس قدر قابلیت پیدا ہو چکی تھی کہ ۱۹۳۴ ء میں جماعت نے نظارت دعوة۔۔۔سے درخواست کی کہ وہ با وجود غیر معمولی مخالفت کے اپنے خرچ پر ایک (مربی) چھ ماہ کے لئے منگوانا چاہتی ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ امسیح نور اللہ مرقدہ کی اجازت سے نظارت دعوة نے جماعت کی یہ درخواست قبول کر کے مکرم شیخ مبارک احمد صاحب مولوی فاضل کو ا ر نومبر ۱۹۳۴ء میں مشرقی افریقہ میں بھیجا۔