سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 159 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 159

159 اچھا مضمون تھا۔عورتوں کے لئے نصائح پر منی بھی آپ نے چند ایک مضامین لکھے۔شاہ صاحب کی ذاتی ڈائریاں بھی تھیں۔جن پر آپ نے اپنی خواہیں اور الہامات لکھے ہوئے تھے اور بہت سی قیمتی باتیں تھیں۔ساری ڈائریاں انہوں نے وفات سے چند روز قبل پھاڑ دیں تھیں۔ان کے پاس حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کے کئی خطوط بھی تھے۔جو حضرت صاحب انہیں لکھتے تھے۔ان میں سے ایک خط میں نے ان سے لے لیا تھا جو میرے پاس محفوظ ہے۔آپ کا طلباء سے حسن سلوک طلباء سے بہت پیار کرتے تھے۔ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔آپ کے اخلاق سے طلباء بہت متاثر تھے۔دوطلباء احمدی ہو گئے تو والدین نے ان کو گھر سے نکال دیا۔بیمار طلباء کے علاج معالجہ کا بھی اہتمام کرتے تھے جو دو طلباء احمدی ہو گئے تھے شاہ صاحب نے ان کی اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کیا۔ایک کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے پاس بھیج دیا اور دوسرے کو حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کے پاس۔ان طلباء میں سے ایک طالب علم بہت بڑا ڈاکٹر بنا اور دوسرے نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔گھر میں خاندان کے بچے پڑھنے کے لئے آ جاتے تھے۔حضرت سید محمود اللہ شاہ انہیں بھی پڑھایا کرتے تھے۔آپ ضرورت مندوں اور غرباء کا بہت خیال رکھتے تھے اور حسب توفیق انہیں اپنی جیب سے دے دیتے تھے۔بعض لوگ تو غرباء کو پکڑ پکڑ کرشاہ صاحب کے پاس لایا کرتے تھے۔بعض لوگوں کے وظائف بھی لگوائے ہوئے تھے۔طلباء کی فیس تو اکثر اپنی جیب سے دیتے ہوئے میں نے انہیں دیکھا ہے۔تحریک جدید کے پانچ ہزار مجاہدین میں آپ کا اور آپ کے کئی افراد خاندان، والدین اور بھائی بہنوں اور اہلیہ کے اسماء شامل ہیں۔تاہم سب سے زیادہ مالی قربانی کرنے والوں میں آپ کا نام اپنے خاندان سے سر فہرست ہے۔اس کے علاوہ اس طرح کے آپ کے بہت سے واقعات میں جیسے کہ فلاں آدمی آج آجائے یا یہ کہ آج فلاں چیز کھانے کا جی چاہتا ہے۔تو وہ چیز کہیں سے گھر میں آ جاتی۔کہیں