سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 149 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 149

149 جب چنیوٹ میں مکانات دیے جا رہے تھے۔تو DC جھنگ نے ہندوؤں کا محلہ ہمیں دیا۔تو اس میں شاہ صاحب نے اپنے سکول کے سارے اساتذہ اور کارکنان وغیرہ رکھے اور ہمارے لئے کوئی جگہ نہ رکھی۔ہمیں ہندوؤں کا ایک مندر رہائش کے لئے ملا۔جہاں مندر میں ان کے پنڈت رہتے تھے۔وہ ایک کمرہ تھا ساتھ اس کے کچن بھی تھا۔شاہ صاحب نے کہا یہ ہمارے لئے رہائش ہے میں نے کہا یہ کون سی جگہ ہے رہنے کے لئے۔اسی گھر میں شاہ صاحب کو ہارٹ اٹیک ہو گیا تھا۔ڈاکٹر نے وہاں سے رہائش تبدیل کرنے کے لئے کہا پھر ایک مکان ملا جو کافی دور تھا۔یہ مکان سکول سے خاصا دور تھا۔اس لئے شاہ صاحب کبھی ٹانگے پہ یا کبھی پیدل سفر کر کے سکول آتے تھے۔اکثر کوشش ہوتی کہ واپسی پر ٹانگہ مل جائے۔چنیوٹ میں آپ کا حلقہ احباب خاصا وسیع تھا۔۱۹۵۲ء میں سکول کا رزلٹ نکلنے والا تھا تو شاہ صاحب کو تار آئی کہ فلاں لڑکے ( منوراحمد صاحب آف چونڈہ ضلع سیالکوٹ ) کی تصویر بھیجو۔شاہ صاحب گھر میں آئے اور کہنے لگے کہ اس لڑکے کی تصویر چاہیے۔میں نے کہا شاہ صاحب آپ کا لڑکا فرسٹ آیا ہے۔اس کی تصویر چھپتی ہے جو فرسٹ آتا ہے۔شاہ صاحب نے کہا کہ وہ لڑکا تو سیالکوٹ کے کسی گاؤں کا رہنے والا ہے میں کہاں سے تصویر کا پتہ کروں۔خیر سکول والوں کو بتایا تو انہوں نے بھی یہ کہا کہ یہ لڑکا اول آیا ہے۔اس سال گورنمنٹ نے جو میٹرک کے رزلٹ کا اعلان کیا تھاوہ ریڈیو پاکستان پر نشر کیا۔ہمارے گھر میں ریڈیو تھا جس پر میں نے بھی اعلان سنا۔جب اعلان ہوا تو پہلا لڑکا بھی ٹی آئی سکول چنیوٹ کا فرسٹ آیا اور چوتھی پوزیشن بھی ٹی آئی سکول کے لڑکے کی تھی۔غرض پہلی دس پوزیشنوں میں چار پانچ پوزیشنیں ہمارے سکول کی تھیں۔یہ بات ہے ۱۹۵۲ء کی۔جب رزلٹ کا اعلان سنا تو شاہ صاحب بڑے خوش ہوئے اور سارے اساتذہ کے ساتھ مل کر سجدہ شکر ادا کیا۔حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ بھی اس رزلٹ سے بہت خوش ہوئے۔دوسرے دن یہ رزلٹ قومی اخبارات میں بھی چھپا۔چنانچہ رزلٹ کے دوسرے تیسرے روز سکول کے old students کے لئے ایک پارٹی کا اہتمام کیا۔جس میں سیدنا حضرت مصلح