سید محموداللہ شاہ — Page 148
148 ہوں اس لئے وہاں جانا ہے۔غرض ان کا سارا وقت بے حد مصروف گزرتا تھا۔دو ماہ کے بعد ایک ایجوکیشنل ڈائریکٹر نے شاہ صاحب کو بلوایا اور کہا کہ آپ کی اہلیہ بھی تعلیم یافتہ ہیں۔اس جنگ میں انہیں بھی حصہ لینا چاہئے اور اپنا فرض ادا کرنا چاہئے۔شاہ صاحب نے یہ بات مجھے بتائی۔چنانچہ مجھے درس و تدریس کا بڑا شوق تھا۔میں نے بھی وہاں بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ایک دفعہ ہمارے سکول میں کوئی فنکشن تھا۔ہال میں وہاں ہم گئے تو کیا دیکھا کہ شاہ صاحب کی بہت سی تصویر میں لگی ہوئی ہیں۔کسی ڈائر یکٹر کے ساتھ کسی ایگزیکٹو کے ساتھ ،کسی صدر کے ساتھ۔میں نے ایک دفعہ شاہ صاحب سے دریافت کیا کہ یہ جو گورنر کی پارٹیاں ہوتی ہیں۔اس میں صرف آپ واحد انڈین ہیں جنہیں یہ لوگ بلاتے ہیں۔دوسروں کو کیوں نہیں مدعو کرتے ؟ تو آپ فرمانے لگے کہ میں خود بھی حیران تھا کہ مجھے ہی بلاتے ہیں دوسروں کو کیوں نہیں بلاتے۔کینیا کے اخبارات و رسائل میں آپ کے مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔آپ کی فطرت میں خاکساری اور انکساری تھی وہ خاموش خدمت کرنے میں بھی لطف محسوس کرتے تھے۔ویسے عام سماجی موضوعات پر بھی آپ مضامین لکھا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ کسی نے اخبار میں کوئی آرٹیکل لکھا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تعدد ازدواج کے حوالے سے اعتراضات کئے گئے تھے۔آپ نے فوراً انگریزی میں اس کا جواب لکھا۔آپ کا یہ مضمون مقامی اخبار نے پہلے صفحہ پر آپ کی تصویر کے ساتھ شائع کیا تھا، جسے بہت پسند کیا گیا۔ٹی آئی ہائی سکول کینیا کے بعد ۱۹۴۴ء میں قادیان تشریف لے گئے اور ٹی آئی سکول کا چارج سنبھال لیا۔آپ کے دور میں طلباء نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔آپ طلباء سے بے حد محبت کرتے تھے اور کمز ور طلباء کو سکول کے علاوہ گھر میں بلا کر بھی پڑھاتے تھے اور ان کے لئے بہت دعائیں کرتے تھے۔