سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 133 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 133

133 داغ مفارقت دینے والے کی عظمت کما حقہ سمجھے۔مگر اِن دو کی رفعت شان کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔اس نے اپنے مقدس باپ کے جسم اطہر کو مخاطب کر کے کچھ اس قسم کا وعدہ کیا۔اے مسجود ملائک ! میں نہیں دم لوں گا جب تک تیرے کام کو تکمیل تک نہ پہنچا لوں۔میں ان سب درندوں کو جب تک انسان کی جون میں نہ بدل لوں چین نہیں کروں گا۔بے شک میرا جسم نحیف ولاغر ہے۔مگر میری روح میں تیری آگ افروختہ ہے۔یہ ہے انتقام جو میں لوں گا اس بے حرمتی کا جو اس وقت معطر و مطہر نعش کے سامنے تیری کی جارہی ہے۔اگر میرا ساتھ کسی نے نہ دیا تو میں اکیلا ہی تیری مشعل سے دنیا کا کونہ کو نہ روشن کروں گا۔“ یہ وقت گذر گیا۔نورالدین اعظم ( نوراللہ مرقدہ ) تخت خلافت پر متمکن ہوا۔مشتاقان جمال احمد کو اس کے دم قدم سے ایک گونہ تشفی ملتی رہی اس کا قلب پر از نور یقین تھا۔اس نے اپنے آقا کی جماعت کی تربیت احسن طور پر کی۔خود مصحف پاک کا عاشق تھا۔یہی عشق اور یہی سوز اس نے ان کے سینوں میں پیدا کیا۔۔۔پر اس زندگی کو بقا نہیں۔ابھی چھ برس نہیں گذرے تھے۔کہ یہ نور مجسم اپنے محبوب حقیقی سے جا ملا۔اس پر میرے اللہ کی بیشمار رحمتیں اور 66 برکتیں ہوں۔حضرت نورالدین ( نور اللہ مرقدہ ) کا آنکھیں بند کرنا ہی تھا کہ جسدِ احمدیت پر لرزہ طاری ہوا۔کچھ امراض جو پنہاں تھے اب موسم کی تبدیلی سے رونما ہوئے۔ان کے شدت غلبہ نے ایک خوفناک شکل اختیار کر لی۔بڑے بڑے مضبوط قوی اور شجاع ہراساں اور ترساں تھے۔الہی تیرا شکر کس طرح ادا کروں۔تو بڑا ہی رحیم وکریم ہے۔تو نے محض اپنے فضل سے حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ کو نباض اور طبیب منتخب فرمایا۔اس نے اس جد کی فصد کھولی۔گندے مواد کے اخراج سے قدرتاً وجو د احمدیت کچھ ضعیف اور کمزور سا ہو گیا۔مگر اس طبیب روحانی نے غذاؤں اور مقوی ادویہ سے اس کو گویا از سر نو زندہ کر دیا۔وہ عہد جو اس کلمہ تمجید نے اس ” صاحب شکوہ اور عظمت“ نے کیا تھا۔وہ اسے یاد تھا اور سچ تو یوں ہے کہ ہر آن اس کے پیش نظر تھا۔اس کے دل و دماغ پر مستولی تھا اندرونی