سید محموداللہ شاہ — Page 128
128 موعود علیہ السلام کے معجزہ سے بہت ہی کم ہے۔فی زمانہ مادی ترقی کا دور ہے اور ایمان و عرفان موجودہ تہذیب یافتہ لوگوں کیلئے ایک مشغلہ ہے۔اس زمانہ میں اللہ سے محبت کرنے والوں کا ایک گروہ پیدا کر لینا معمولی بات نہیں۔میں شیخ صاحب کے ساتھ سیٹھ صاحب کیلئے بھی دعا کی تحریک کرتا ہوں۔آپ میری طرف سے اپنے مؤثر الفاظ میں ایک مضمون لکھ کر درج اخبار فرمائیں۔صاحب بصیرت کی سیر (الحکم قادیان ۱۴ / مارچ ۱۹۳۵ صفحه ۲) آپ کا ایک ادبی اور پر معانی مضمون پیش ہے۔اس مضمون کی بابت حضرت شیخ محمود احمد عرفانی صاحب تحریر کرتے ہیں:۔میں بھی سید صاحب سے تعلقات نیاز مندی رکھتا تھا۔اس مضمون میں جو دراصل اخبار کیلئے نہیں لکھا گیا۔سید صاحب کی سیرت کا ایک باب پنہاں ہے۔یہ مضمون نہ صرف اعلیٰ درجہ کی ادبی خوبیوں کا حامل ہے۔بلکہ ایک بے نظیر درس معرفت بھی ہے۔”زندگی کا جو بلند مفہوم سید صاحب نے پیش کیا ہے وہ ہزار ہا کتب کا دو تین سطروں میں خلاصہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی زندگی اور معرفت میں ترقی دے اور کبھی الحکم کیلئے کچھ لکھنے کی توفیق دے۔“ ”کون ہے جسے سیر وتفریح کا شوق نہیں۔لوگ سیر کو جاتے ہیں۔دو دو چار چارمل کر جاتے ہیں۔دنیا جہاں کی باتیں کرتے ہیں۔نکتہ چینیوں کے باب کھل جاتے ہیں۔ہر ایک پھول داد تحسین لیتا ہے۔نظاروں کی دلفریبی پر تبادلہ خیالات ہوتا ہے کیا یہی سیر کا ماحصل ہے؟ مجھے بھی سیر کا شوق ہے۔میں بھی گاہے بگاہے اپنے کام سے الگ ہو کر بند سے نکل کر شہر سے دور نکل جاتا ہوں۔میری سیر نرالی ہے۔میں دوستوں سے نظر بچا کر چھپ چھپا کر نکلتا ہوں۔اس طرح کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔میں تنہا نکلتا ہوں مگر نہیں کہہ سکتے کہ میں تنہا ہوں۔میں خاموش ہوتا ہوں مگر میری خاموشی اور وں کی فصاحت اور گویائی سے کہیں زیادہ