سید محموداللہ شاہ — Page 120
120 لب ولہجہ میں جواب دوں جس لب ولہجہ میں انہوں نے اپنے دلی جذبات کا اظہار فرمایا ہے۔لیکن جوں جوں جلسہ سالانہ قریب آرہا ہے۔مجھے یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔بعض دوستوں کو میں جواب بھیج رہا ہوں جو دو تین دن سے لکھے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے۔میں کل ہی اپنے دوست مرزا عبدالحق صاحب سے کہ رہا تھا کہ احد بیت کتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے طفیل ایک وسیع برادری قائم ہے۔اور کیا ہی محروم وہ شخص ہے جو اس بے نظیر برادری کا ابھی حصہ نہیں بنا جو فَالَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُمُ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (آل عمران:۱۰۴) کا خوشکن نظارہ پیش کرتی ہے۔میں اس موقعہ پر اپنے احباب سے اتنا عرض کروں گا کہ ایک عربی شاعر کہتا ہے کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو روتا ہے اور اس کے اعزاء واقرباء اس کے ارد گرد کھڑے ہنس رہے ہوتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ خاندان میں ایک اور بچہ پیدا ہوا۔شاعر کہتا ہے کہ اعلیٰ انسان تو دنیا میں ایسے طور سے اپنی زندگی بسر کر کہ جب تو جہاں سے جائے تو لوگ رو ر ہے ہیں اور تو خوش ہو رہا ہو۔یہ سعادت صرف اس صورت میں نصیب ہوتی ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کا ہو جائے اور اس کا ہو کر بنی نوع انسان کی کمال ہمدردی اور اخلاص و محبت سے خدا تعالیٰ کیلئے خدمت کرے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس سعادت کو حاصل کرنے کی توفیق دے۔جو میرے پیارے بھائی کے نصیب ہوئی ہے۔آمین۔اللهم صلى على محمد وآله بالآ خر میں اپنے لئے بھی احباب سے دعا کی درخواست کرتا ہوں جیسا کہ میں اپنا بھی فرض سمجھتا ہوں اور تمام احباب کیلئے بالالتزام دعا کی توفیق پاتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ جب احباب جلسہ پر آئیں تو ان تمام دوستوں سے مل کر 66 ان کا شکر یہ ادا کروں۔“ روزنامه الفضل لا ہور ۲۳ / دسمبر ۱۹۵۳ء صفحه ۶)