سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 102 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 102

102 خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں تاثرات مکرم و محترم مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ راولپنڈی) حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے بارے میں سب سے پہلا تصور جو ذہن میں ابھرتا ہے وہ ان کے قدوقامت ، چہرے مہرے، ان کے چلنے کے انداز اور ان کی سیرت اور طرزِ زندگی ہے۔آپ کے عہد میں سکول میں ہم تو بچے ہی تھے۔ٹی آئی سکول میں آمد سے قبل حضرت شاہ صاحب پہلے مشرقی افریقہ میں سروس کر چکے تھے۔وہاں سے واپس قادیان تشریف لائے۔جو مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں سید سمیع اللہ شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر ہوا کرتے تھے۔ان کا دور اپنے رنگ میں ایک عجیب دور تھا۔ان کی طبیعت بڑی جدت پسند تھی۔آپ نے طلبا کی اصلاح کیلئے بعض ایسے طریقے اختیار کیے جو بعد میں مقبول نہیں ہوئے لیکن ان کی طبیعت میں وہی جدت تھی۔اس کا ذکر کر نا ضروری نہیں ہے کہ وہ کیا طریقے انہوں نے اختیار کیے۔جب سید محمود اللہ شاہ صاحب ٹی آئی سکول قادیان میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے تو سب پہلے آکر انہوں نے اساتذہ کے ہاتھ سے چھڑی موقوف کروادی کہ بچوں کو بدنی سزا بالکل نہیں دی جائے گی۔وہ بالکل اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ بچوں کو بدنی سزا دی جائے۔حالانکہ اس زمانے میں سکولوں میں عام رواج تھا ٹیچروں کے پاس بید ہوا کرتے تھے یا سوٹیاں ہوا کرتی تھیں اور پنجاب کے سکولوں میں تو عام طور پر لطیفے کے طور پر مشہور تھا کہ وگڑے تگڑیاں دا پیر اے ڈنڈا۔(اس وقت ڈنڈے یا چھڑی کو مولا بخش کہا جاتا تھا) مجھے یاد پڑتا ہے کہ اگر کسی طالب علم سے کوئی بہت ہی سنگین غلطی سرزد ہوگئی ہو تو شاید اسمبلی میں ایک آدھ دفعہ کسی طالب علم کو سزادی گئی ہور نہ کلاس روم میں عام طور پر ڈنڈے کے استعمال کی اجازت نہ تھی۔