سوشل میڈیا (Social Media)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 130

سوشل میڈیا (Social Media) — Page 47

ہونگی تو یہی کارآمد چیز جو ہے۔لغویات میں بھی شمار ہوگی اور گناہ بھی بن رہی ہوں گی۔پھر آجکل موبائل فون پر ٹیکسٹ میں پیغامات دئیے جاتے ہیں۔یہ بھی ایک سلسلہ شروع ہوا ہے نیا ، آجکل بڑا سستا طریقہ ہے گپیں مار کر وقت ضائع کرنے کا اور نامحرموں سے بات کرنے کا۔بڑے آرام سے کہہ دیا جاتا ہے کہ ٹیکسٹ میسج (text message) ہی تھا کونسی بات کر لی ہے۔ایک دوسرے سے رابطے بڑھتے ہیں کہ سہیلی نے اپنے دوستوں میں سے کسی کا فون دے دیا اپنے دوستوں کو اپنی سہیلی کا فون دے دیا۔موبائل نمبر دے دیا کسی بھی ذریعہ سے ایک دوسرے کے نمبر ہاتھ آگئے تو ٹیکسٹ میسج کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے پھر ٹیلی فون پر 12 ، 13 ، 14 سال کے بچیاں بچے لے کر پھر رہے ہوتے ہیں۔پیغامات دے رہے ہوتے ہیں۔اور یہی عمر ہے جو خراب ہونے کی عمر ہے اور پھر انجام ایسی حد تک چلا جاتا ہے آخر کار جہاں وہ لغو جو ہے وہ گناہ بن جاتا ہے۔اس لیے احمدی بچیاں اپنی عصمت کی خاطر اپنی عزت کی خاطر اپنے خاندان کے وقار کی خاطر اپنی جماعت کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے جس کی طرف سے وہ منسوب ہو رہی ہیں جس سے وہ منسلک ہیں ان چیزوں سے بچیں اور اسی طرح احمدی مرد بھی سن رہے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو بچائیں۔“ 66 خطاب بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ جرمنی 11 جون 2006ء) ( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل 19 جون 2015ء) 47