سوشل میڈیا (Social Media) — Page 45
ماؤں کی ذمہ داری کے حوالہ سے ایک موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے آئرلینڈ کی نیشل مجلس عاملہ کی عہدیداران کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: جہاں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں تعلیم کے حصول ” میں تو کوئی حرج نہیں بشر طیکہ لڑکے لڑکیوں سے دوستی نہ کریں اور ایک دوسرے سے صرف ضرورت کے تحت ہی بات کریں chat،facebook،sms اور فون کالز (phone calls) سے اجتناب کریں۔ماں باپ کو ہدایت کریں کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں۔ہر وقت کمپیوٹر اور موبائل فون ہاتھ میں رکھنا مناسب 66 نہیں۔جو مائیں کمپیوٹر نہیں جانتیں وہ سیکھ لیں تا کہ بچوں پر نظر رہے۔“ نیشنل مجلس عاملہ میٹنگ لجنہ اماءاللہ آئر لینڈ 18 رستمبر 2010ء) ( مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 22 /اکتوبر 2010ء) اسی طرح حضور انور نے احمدی خواتین کو معاشرتی لغویات اور فضولیات سے اپنے گھروں کو متاثر نہ ہونے دینے کے بارہ میں یوں نصیحت فرمائی:۔۔۔اسی طرح لغویات میں گندی اور نگی فلمیں ہیں۔گندی اور ننگی کتابیں ہیں۔رسالے ہیں یہ سب اس بہانے سے مارکیٹ میں پھیلائی جاتی ہیں کہ اس زمانہ میں جنسی تعلقات کا پتہ لگنا چاہیے تا کہ ان برائیوں سے بچا جاسکے۔بچتے تو پتہ نہیں یہ ہیں کہ نہیں لیکن سڑک پر ہر گلی کے نکڑ پر ایسے جو اشتہارات ہیں اخلاق سوز قسم کے وہ بُرائیوں میں ضرور معاشرے کو گرفتار کر دیتے ہیں۔جو چیز فطری ہے اس کا جب وقت آئے گا تو خود بخود پتہ چل جائے گا۔جب اس کا پتہ لگنے کی ضرورت ہے۔علم کے نام پر اس ذہنی عیاشی سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے۔اس لئے 45