سوشل میڈیا (Social Media) — Page 12
دو پس شیطان سے بچنے کے لئے تو گھروں میں ہی ایسے مورچے بنانے کی ضرورت ہے کہ اس کے ہر حملے سے نہ صرف بچا جائے بلکہ اس کے حملے کا اسے جواب بھی دیا جائے۔شیطان کے پیار کو پیار سمجھ کر اسے زندگی میں داخل نہ کریں بلکہ ہر وقت استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔شیطان سے بچنے کی سب سے بڑی پناہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔پس اس بگڑے ہوئے زمانے میں استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالی کی پناہ میں آنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ استغفار ہی وہ ذریعہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں انسان آسکتا ہے۔کوئی انسان بھی جانتے بوجھتے ہوئے کسی برائی کی طرف نہیں جاتا۔یہ فطرت کے خلاف ہے کہ ایک بات کا پتا ہو کہ اس سے نقصان ہونا ہے تو پھر بھی انسان اس چیز کو کرنے کی کوشش کرے۔ایک حقیقی مومن کو تو اللہ تعالیٰ نے ویسے بھی کھول کر برائی اور اچھائی کے متعلق بتا دیا ہے۔پس برائیوں اور اچھائیوں کی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق تلاش کر کے ان سے بچنے اور کرنے کی کوشش انسان کو کرنی چاہئے۔شیطان کو علم ہے کہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کی پناہ میں ہے، اس کے حصار میں ہے، اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اس لئے شیطان انسان کو اس پناہ سے نکال کر، اس قلعے سے نکال کر جس میں انسان محفوظ ہے پھر اپنے پیچھے چلاتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ سے نکالنے کے لئے پہلے شیطان نیکیوں کا لالچ دے کر ہی انسان کو نکالتا ہے یا نیکیوں کا 12