سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 24

40 39 خدا تک پہنچے کا ذریعہ قصہ مشہور ہے کہ کوئی بزرگ تھے ان کے پاس ایک دفعہ ایک طالب علم آیا جو دینی علوم سیکھتا رہا۔کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد جب وہ اپنے وطن واپس جانے لگا تو وہ بزرگ اس سے کہنے لگے: میاں ایک بات بتاتے جاؤ۔وہ کہنے لگا دریافت کیجئے۔میں بتانے کیلئے تیار ہوں۔وہ کہنے لگے اچھا یہ تو بتاؤ کیا تمہارے ہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگا حضور شیطان کہاں نہیں ہوتا۔شیطان تو ہر جگہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا: اچھا جب تم نے خدا تعالیٰ سے دوستی لگانی چاہی اور شیطان نے تمہیں ورغلا دیا تو تم کیا کرو گے؟ اس نے کہا میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔کہنے لگے : فرض کرو تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا، لیکن پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے جدو جہد کی اور پھر تمہیں شیطان نے روک لیا تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا: میں پھر مقابلہ کروں گا وہ کہنے لگے اچھا مان لیا تم نے دوسری دفعہ بھی اسے بھگا دیا۔لیکن اگر تیسری دفعہ وہ پھر تم پر حملہ آور ہو گیا اور اس نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بڑھنے نہ دیا تو کیا کرو گے؟ وہ کچھ حیران سا ہو گیا مگر کہنے لگا: میرے پاس سوائے اس کے کیا علاج ہے کہ میں پھر اس کا مقابلہ کروں۔وہ کہنے لگے: اگر ساری عمر تم شیطان سے مقابلہ ہی کرتے رہو گے تو خدا تک کب پہنچو گے۔وہ لا جواب ہوکر خاموش ہو گیا۔اس پر اس بزرگ نے کہا کہ اچھایہ تو بتاؤ اگر تم اپنے کسی دوست سے ملنے جاؤ اور اس نے ایک کتا بطور پہرہ دار رکھا ہوا ہو اور جب تم اس کے دروازہ پر پہنچنے لگو تو وہ تمہاری ایڑی پکڑلے تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا کتے کو مارونگا اور کیا کرونگا۔وہ کہنے لگے : فرض کرو تم نے اسے مارا اور وہ ہٹ گیا لیکن اگر دوبارہ تم نے اس دوست سے ملنے کے لئے اپنا قدم آگے بڑھایا اور پھر اس نے تمہیں آ پکڑا تو کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا: میں پھر ڈنڈا اٹھاؤں گا اور اسے ماروں گا۔انہوں نے کہا اچھا تیسری بار پھر وہ تم پر حملہ آور ہو گیا تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا: اگر وہ کسی طرح باز نہ آیا تو میں اپنے دوست کو آواز دوں گا کہ ذرا باہر نکلنا۔یہ تمہارا کتا مجھے آگے بڑھنے نہیں دیتا۔اسے سنبھال لو۔وہ کہنے لگے : بس یہی گر شیطان کے مقابلہ میں بھی اختیار کرنا اور جب تم اس کی تدابیر سے بچ نہ سکو تو خدا سے یہی کہنا کہ وہ اپنے کتے کو روکے اور تمہیں اپنے قرب میں بڑھنے دے۔۔تم اس کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑ لیتے جس کے قبضہ قدرت میں یہ تمام چیزیں ہیں۔اگر تم اس سے دوستی لگا لو تو تمہیں ان چیزوں کا کوئی خطرہ نہ رہے اور ہر تباہی اور مصیبت سے بچے رہو۔یہ علاج ہے جو قرآن کریم نے بتایا ہے۔( سیر روحانی جلد اول صفحہ ۶۶ - ۶۷) www۔alislam۔org